رسائی کے لنکس

logo-print

افغان نوجوانوں کی روایتی برقعے کے خلاف آگہی مہم


افغانستان کا روایتی برقعہ

افغانستان میں خواتین سے روایتی طور پر یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا چہرہ کسی حجاب یا نقاب سے ڈھانپیں لیکن بہت سے مذہبی لیڈر کہتے ہیں کہ برقعه جو خواتین کے پورے جسم اور چہرے کو ڈھانپتا ہے، اسلامی شریعت کا کوئی تقاضا نہیں ہے۔

افغان نوجوانوں نے مسلم خواتین کے گھر سے باہر پہن کر نکلنے والے سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والے روایتی لمبے اور ڈھیلے ڈھالے برقعے کا روائتی استعمال ختم کرنے کے مقصد سے ایک آگاہی مہم شروع کی ہے ہیں جسے"Sun Behind Curtain،” یا پردے کے پیچھے سورج کا نام دیا گیا ہے ۔برقعه جسے چادری بھی کہتے ہیں جو روایتی طور پر خواتین کو سر سے پیر تک ڈھانپ دیتا ہے، خود کش بمباروں کے لیے ایک پسندیدہ لبادہ بن گیا ہے جو دہشت گرد حملے کرنے کے لیے عورتوں کا بھیس بدلتے ہیں ۔

افغانستان کے شہر ہرات میں خواتین کے برقعے کے استعمال پر ایک نمائش لگائی گئی، جسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دیکھا۔

فرزانہ سعادت جو ’ پرے کے پیچھے سورج ‘مہم کی ایک رکن ہیں کہتی ہیں کہ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روایتی برقعه جو خواتین کو سر سے پیر تک ڈھانپ دیتا ہے کبھی بھی افغان ثقافت کا حصہ نہیں رہا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ خواتین لمبا برقعه طالبان کے دور اقتدار میں لازمی بنا تھا۔ ہم برقعے کے پس منظر پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کیوں کہ برقعه پہننا ہماری ثقافت کا حصہ نہیں ہے اور ہم اس سے گریز کر سکتے ہیں ۔

سعادت نوجوان لوگوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کا حصہ ہیں جو برقعے کے زبردستی استعمال کو مستر د کرتی ہے ۔’ سن بی ہائینڈ کرٹین‘ کی ان کی مہم کا مقصد، اس تصویری نمائش کے ذریعے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس لبادے نے کس طرح خواتین کو گمنام اور بے چہرہ شہریوں میں تبدیل کر دیا ہے، خواتین کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا ہے۔

لیکن مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ برقعہ خواتین کے خلاف جس جنسی فرق کی نمائندگی کرتا ہے اسے دہشت گردوں اور کچھ ایسے لوگوں نے جو قانون توڑنا چاہتے ہیں بہت موثر طریقے سے استعمال کیا ہے ۔’ پردے کے پیچھے سورج ‘مہم کی ایک رکن کبریٰ محمدی کہتی ہیں کہ برقعه استعمال کر کے اور خواتین کا بھیس بدل کر، بد قسمتی سے بہت سے برے اقدامات مثلاً بد کاری، لوٹ مار اور خودکش حملے ہو رہے ہیں ۔ اور بد قسمتی سے ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ خواتین کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر برقعه پہنے والوں کو باقاعدگی سے چیک نہیں کیا جاتا۔

افغانستان میں خواتین سے روایتی طور پر یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا چہرہ کسی حجاب یا نقاب سے ڈھانپیں لیکن بہت سے مذہبی لیڈر کہتے ہیں کہ برقعه جو خواتین کے پورے جسم اور چہرے کو ڈھانپتا ہے، اسلامی شریعت کا کوئی تقاضا نہیں ہے۔

اسلامی قانون کے ایک ماہر غلام رسول عابدی کہتے ہیں کہ حجاب ایک اسلامی تقاضا ہے لیکن اسلامی شریعت میں برقعه ایک حجاب کے طور پر لازمی شرط نہیں ہے۔ برقعه ایک غیر اسلامی روایت ہے جسے افغان معاشرے کی پوری تاریخ میں فروغ دیا گیا ہے۔

تاہم کچھ افغان خواتین اس مہم کی کچھ زیادہ حامی نہیں ہیں جن کی دلیل ہے کہ برقعه پہننے سے وہ خود کو زیادہ محفوظ اور مطمئن محسوس کرتی ہیں ۔

ہرات کی ایک خاتون بی بی آمنہ کہتی ہیں کہ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ برقعه ایک اچھی چیز ہے کیوں کہ یہ میرے جسم کو مناسب طریقے سے ڈھانپ دیتا ہے اور جب میں گھر سے باہر جاتی ہوں تو لوگ میرا جسم نہیں دیکھ سکتے ۔

افغانستان کے دور افتادہ دیہاتوں اور اضلاع میں بہت سی خواتین کو معاشرتی دباؤ اور الگ تھلگ کر دیے جانے کے خوف سے برقعه پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

، سن بی ہائینڈ کرٹن مہم، برقعہ پہننے کیے عمل کے بار ے میں آگاہی بڑھانے کی توقع رکھتی جس پر مغرب کے کچھ ملکوں میں پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے ۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ خواتین کے لیے اچھی مسلمان ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ بے چہرہ ہو جائیں اور نظر نہ آ سکیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG