رسائی کے لنکس

افغانستان میں ہمارے مغوی کارکنوں کو رہا کیا جائے، ریڈکراس


فائل فوٹو

ریڈکراس کے دو کارکنوں کو افغانستان میں اس وقت اغوا کیا گیاتھا جب وہ صوبے جوزجان میں امدادی سامان پہنچانے جا رہے تھے۔ داعش کے اس حملے چھ کارکن مارے گئے تھے۔

ہفتے کے روز ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی آئی سی آر سی نے اس ماہ کے شروع میں شمالی افغانستان میں اغوا کیے گئے اپنے عملے کے دو ارکان کی محفوظ اور غیر مشروط رہائی کی اپیل کی۔

مغوی کارکن آئی سی آر سی کے اس قافلے میں شامل تھے جو آٹھ فروری کو اس وقت شمالی صوبے جوزجان کے مویشیوں اور غربت زدہ کاشتکاروں کے لیے خوراک لے کر جا رہا تھا جب انہیں مبینہ طور پر داعش کے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا۔

أفغان سیکیورٹی عہدے داروں نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے ریڈ کراس کی کمیٹی کے چھ ارکان کو ہلاک کر دیا اور دو کو اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔

اس ادارے نے اس کے بعد سے پورے ملک میں اپنی انسانی ہمدردی کی کارروائیں معطل کر دی ہیں جہاں لاکھوں لوگوں کو طالبان کی قیادت کی شورش میں شدت کی وجہ سے امداد کی اشدضرورت ہے ۔

أفغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ مغوی کارکنوں کی تلاش کی کوششیں کر رہے ہیں جب کہ طالبان نے خود کو اس واقعے سے دور رکھا ہے ۔

اسلام پرست شورش نے اس مہلک حملے کے پیچھے کار فرما لوگوں کو تلاش اور سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ریڈ کراس کی کمیٹی کی جانب سے افغانوں کی مدد میں ان کے کردار کا احترام کرتا ہے اور اس نے کمیٹی کو اپنی سر گرمیاں بحال کرنے تک پر زور دیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG