رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی علاقوں میں موجود دہشت گرد بدستور خطرہ ہیں: افغان عہدیدار


صدیق صدیقی نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، لشکر جھنگوی اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروپ افغانستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سرحد پار پاکستان میں اب بھی دہشت گرد تنظیموں کے جنگجو موجود ہیں جو کہ اُن کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بدھ کو کہا کہ حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، لشکر جھنگوی اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروپ افغانستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

صدیق صدیقی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ گروپ پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں موجود ہیں اور اُن کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی سلامتی کو ان سے اُسی طرح کا خطرہ ہے جیسا کہ ماضی میں تھا۔

افغان عہدیدار کے اس بیان پر پاکستانی فوج یا وزارت خارجہ کی طرف سے تو کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغان حکومت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔

’’جب سے افغانستان میں انتخابات ہوئے ہیں اور جب سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی نئی قیادت آئی ہے۔ ان کے ساتھ (پاکستان کا) بے حد تعاون ہو رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشاورت بھی ہو رہی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر سطح پر تعاون ہونے کی وجہ سے ایسے عناصر کو ختم کرنا آسان بھی ہو رہا ہے مشکلات کم ہو رہی ہیں‘‘۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی یقینی طور پر مکمل طور پر تو ختم نہیں ہوئی۔

’’وہ (دہشت گرد) ابھی سارے ختم نہیں ہوئے ہیں تو ان کی موجودگی پاکستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہوتی ہے اور افغانستان کے لیے بھی ہوتی ہے تو سرحد کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں، تھوڑے ادھر ہیں اور تھوڑے ادھر ہیں۔جب ان پر اُدھر دباؤ بڑھتا ہے تو ادھر آ جاتے ہیں اور ادھر دباؤ پڑتا ہے تو ادھر چلے جاتے ہیں، اس لیے اس سلسلے میں مشترکہ کارروائیاں اور ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت اور انٹلیجنس معلومات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور دونوں ملکوں کے لیے بہتر نتائج ہو ں گے۔‘‘

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ افغان عہدیدار کے بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ پاکستان کی حکومت پر کسی طرح کا الزام لگا رہے ہیں۔

’’کوئی اسیے تحفظات نہیں ہیں، وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی منشا اور مرضی سے کارروائیاں کر تے ہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ ان کی محض موجودگی دونوں ممالک کے لیے خطرے کا باعث ہے،اس لئے دونوں ملک تعاون کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کی سیاسی و عسکری قیادت میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے رابطوں کی بدولت تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور دونوں اطراف سے کہا جاتا رہا ہے کہ ایسے رابطوں سے عدم اعتماد کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

افغانستان کی فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی نے رواں ماہ پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت گاہ کاکول میں تربیت مکمل کرنے والے فوجی افسران کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب بھی کیا۔

جنرل کریمی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی مشترکہ دشمن ہے جس سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ تعاون کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں کے آغاز کے بعد افغان حکومت سے بھی رابطے کیے تاکہ جنگجوؤں کو سرحد پار فرار نا ہونے دیا جائے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے بیشتر علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے جب کہ حال ہی میں فوج نے خیبر ایجنسی میں درہ مستوئل پر بھی کنٹرول کا اعلان کیا۔

فوج کے مطابق دہشت گرد اس درے کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے تھے جسے اب بند کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG