رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان کے عوامی نمائندوں کا روابط کے فروغ پر اتفاق


(فائل فوٹو)

پاکستانی اور افغان اراکین پارلیمان کے درمیان کابل میں ہونے والے غیر رسمی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور دوطرفہ تجارتی رابطوں میں اضافے پر تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔

حالیہ چند ہفتوں میں دونوں ہمسایہ ملکوں کے عوامی نمائندوں کے مابین ان اُمور پر بات چیت کے لیے یہ دوسرا غیر رسمی اجلاس تھا۔ اس سے قبل مارچ کے اواخر میں افغان پارلیمان کے 20 اراکین پر مشتمل ایک وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور ان رابطوں کا اہتمام جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری پاکستانی تنظیم پلڈاٹ نے کیا ہے۔

پیر کو اجلاس کے اختتام کے بعد کابل سے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے افغان سینیٹ کی خارجہ اُمور کمیٹی کے سربراہ عارف الله پشتون نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے منتخب عوامی نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت انتہائی دوستانہ اور برادرانہ ماحول میں ہوئی۔

اُن کے بقول اس طرح کے رابطوں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اجلاس میں اقتصادی و تجارتی روابط بڑھانے کے لیے تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سرفہرست پاکستان کے راستے تجارت کا معاہدہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ تھا۔

دونوں ملکوں نے اس معاہدے پر اکتوبر میں دستخط کیے تھے اور امریکہ نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے کیوں کہ امریکی عہدے داروں کا ماننا ہے کہ دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی خطے میں انتہا پسندی کے رجحان کی حوصلہ شکنی میں مدد دے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہ داری کا یہ معاہدہ اس سال فروری میں نافذ عمل ہونا تھا لیکن بعض انتظامی اُمور پر اختلافات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد 12 جون تک موخر کر دیا گیا۔ لیکن اس ماہ کابل میں امریکی، افغان اور پاکستانی وفود کے سہہ فریقی اجلاس میں بظاہر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر اختلافات دور ہو چکے ہیں اور فریقین اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ وقت مقررہ پر افغان تاجر بھارت کو برآمد کی جانے والی اشیاء اپنے ہی ٹرکوں پر لاد کر پاکستان کے راستے واہگہ سرحد تک لے جا سکیں گے۔ تاہم معاہدے کے تحت افغانستان کو بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء اس راہداری سے لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG