رسائی کے لنکس

کیا افغان امن عمل کی تازہ کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں؟


چین میں افغان امن مذاکرات کے موقع پر ایک سیکیورٹی عہدے دار افغانستان، چین اور پاکستان کے جھنڈوں کے قریب کھڑا ہے۔ دسمبر 2017

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد خطے کے چار ملکی دورے کے تیسرے مرحلے میں منگل کو کابل پہنچے ہیں جہاں وہ امن مذاکرات کے لئے امریکی کوششوں کے اگلے مرحلے کے بارے میں افغانستان کے صدر اور دوسرے راہنماوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔

وہ ایک ایسے وقت میں خطے کے دورے پر ہیں جب افغان طالبان سے بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

اس بارے میں وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری نے دو ماہرین افغان صحافی اور رائٹر ڈاکٹر حسین یاسا اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سعد نذیر سے گفتگو کی۔

ڈاکٹر حسین یاسا کا کہنا تھا کہ جس طریقہ کار سے امن کے اس عمل کا آغاز کیا گیا تھا اس کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وسیع الابنیاد میکنزم نہیں ہے۔ جس کے سبب لوگوں کو اس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔

طالبان کا مطالبہ تھا کہ وہ امریکہ سے براہ راست بات کریں گے۔ اس مطالبے کو قبول کیا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف افغان حکومت اس سے غیر مطمئن تھی بلکہ افغانستان کے اندر دوسرے اسٹیک ہولڈرز بھی جو سسٹم میں رہ کر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے تھے وہ بھع مطمئن نہ ہوئے۔

انہوں کہا کہ خطے کے کئی ممالک بھی اس عمل کی تفصیلات سے آگاہ نہ تھے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ سب کو پہلے سے ہی معلوم تھا۔

ڈاکٹر یاسا نے کہا کہ اس کام کے لے سفیر خلیل زاد کا انتخاب بھی زیادہ دانش مندانہ فیصلہ نہ تھا۔ کیونکہ خطے کے بعض ممالک میں وہ زیادہ پسندیدہ شخصیت نہ تھے اور بقول ان کے یہ عمل اب تقریبا ناکام ہو چکا ہے۔ اور اب خطے کے ممالک علاقائی اپروچ کے ساتھ کسی حل کے لئے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ اور جہاں تک طالبان کا تعلق ہے وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں پورا افغانستان چاہئے اور جب امریکہ وہاں سے چلا جائے گا تو پورا افغانستان ان کی گود میں آ جائے گا۔

بریگیڈیر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ جہاں تک افغانستان کے مسئلے اور اس کے حل کا تعلق ہے تو اس بار کی جانے والی کوششوں سے خاصی امیدیں وابستہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ عمل پٹری سے اتر چکا ہے اور طالبان صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کے بارے میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے بارے میں تحفظات تھے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار وہ زیادہ Pro-active نظر آتے ہیں اور یہ سمجھ کر حل کے لئے کوشاں ہیں کہ اگر ان کی کوششوں سے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ ان کی بڑی کامیابی ہو گی۔

اس بارے میں ڈاکٹر یاسا نے مزید کیا کہا، یہ جاننے کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:53 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG