رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے انخلا کا دارومدار زمینی حقائق پر: پیٹریاس


جولائی 2011ء کی انخلا کی تاریخ ایک باضابطہ ابتدا ہے جو ، احتیاط کے ساتھ امریکی فوجوں کی تعداد میں کمی لانے اور افغان افواج کی طرف سے ذمہ داریاں سنبھالنے کی نشاندہی کرتی ہے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے دی جانے والی تاریخ، انخلا کے عمل کی ابتدا ہے ۔ یہ فوری انخلا کی ڈیڈلائن نہیں ہے۔

اُنھوں نے بدھ کے روز سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا کہ جولائی 2011ء کی انخلا کی تاریخ ایک باضابطہ ابتدا ہے جو ، احتیاط کے ساتھ امریکی فوجوں کی تعداد میں کمی لانے اور افغان افواج کی طرف سے ذمہ داریاں سنبھالنے کی نشاندہی کرتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق ہی طے کریں گے کہ انخلا کی رفتار کیا ہوگی۔

منگل کے روزکمیٹی کی سماعت کے دوران، پیٹریاس اچانک کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہوگئے تھے۔ جسکے بعدسماعت کو بدھ تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

بدھ کی سماعت میں جنرل پیٹریاس نے افغانستان میں بغاوت سے لڑنے کو جھولوں کے اونچے نیچے کھیل سے مشابہ قرار دیا، جس میں بہت زیادہ اونچ نیچ ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں کوئی ایسا پہاڑ نہیں ہے جہاں آپ اپنا جھنڈا گاڑ کر فتح کا تازیانہ بجائیں۔

اُنھوں نے کہاکہ اِس کے برعکس تشدد میں کمی کا عنصر ظاہر کرتا ہے کہ تنازع میں کامیابی ہوئی ہے، مثلاً خود کش کار دھماکوں میں کمی آجانا۔

سینیٹ کی سماعت کا مقصد افغانستان میں جاری صورتِ حال کا تجزیہ کرنا تھا جہاں مزید ہزاروں امریکی فوجی بھیجے جارہے ہیں۔ لڑائی کو نواں سال ہو چلا ہے۔ جنگ کی صورتِ حال کا تازہ ترین جائز ہ دسمبر میں پیش کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG