رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کا پارلیمنٹ کو تعطیل ملتوی کرنے کا حکم



افغانستان کے صدر حامد کرزئى نے پارلیمنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ کابینہ کے لیے اُن کے نامزد کیے ہوئے ارکان کی ایک نئى فہرست پر ووٹنگ کے لیے اپنی موسمِ سرما کی تعطیل کو موخر کردے۔ پارلیمنٹ نے کابینہ کے عہدوں کے لیے صدر کی جانب سے پہلی بارنامزد کیے جانے والے بیشتر ناموں کو پچھلے ہفتے ردّ کردیا تھا۔
مسٹر کرزئى نے پیر کے روز آئین کی اُس شِق کے تحت یہ حکم جاری کیا ہے، جس میں انہیں پارلیمنٹ کے غیر معمولی اجلاس طلب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی چھ ہفتے کی تعطیل کو اُس وقت تک ملتوی رکھنا چاہئیے، جب تک وہ اُن نامزد وزیروں کی جگہ، جنہیں وہ نامنظور کرچکے ہیں، نئے وزیر نہیں چُن لیتے۔

افغانستان کی پارلیمنٹ نے ہفتے کے روز ایک خفیہ ووٹنگ میں مسٹر کرزئى کے نامزد 24 وزیروں میں سے صرف سات کی توثیق کی تھی۔ نامنظور کیے جانے والے نامزد عہدے داروں میں توانائى کے موجودہ وزیر اسماعیل خان بھی شامل ہیں۔ وہ ایک سابق جنگی سردار ہیں اور اُن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

پیر کے روز ہی اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی ادارے نے ابھی تک اس بارے میں کوئى فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا افغانستان کے الیکشن نے فراڈ اور بد عنوانیوں کے انسداد کے مقصد سے اس قدر اقدامات کرلیے ہیں کہ اُسے مئى میں پارلیمانی انتخابات کے لیے اقوامِ متحدہ کی مالی امداد کا اہل قرار دیا جاسکے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مِشن کے ترجمان علیم صدیق نے کہا ہے کہ عہدے دار یہ معلوم کرنا چاہتے کہ آیا اُن حکام کو ہٹایاگیا ہے جو پچھلے سال دھاندلیوں سے داغدار صدارتی انتخاب میں فراڈ میں ملوث پائےگیے تھے اور یہ کہ اُن کی جگہ کِن نئے افراد کو مقرر کیا گیا ہے۔

مغربی سفارت کار صدر کرزئى پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ پارلیمانی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں اصلاحات کے مکمل ہونے تک ملتوی کردیں۔مسٹر کرزئى طے شدہ پروگرام کے مطابق مئى میں الیکشن کرانے پر مُصر ہیں۔لیکن واضح نہیں کہ اہم اصلاحات کے بغیر مئى میں مجوزہ انتخابات کو بین الاقوامی تائید وحمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔

پیر کے دن اس سے پہلے افغانستان میں نیٹو اور برطانیہ کے عہدے داروں نے کہا تھا کہ اتوار کے روز ملک کے جنوب میں سڑک کے کنارے بموں کے الگ الگ حملوں میں ایک برطانوی فوجی اور امریکی مسلح افواج کے چار ارکان ہلاک ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG