رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد چار سے پانچ ہزار کر دی جائے گی: ٹرمپ


افغانستان کے ایک دور افتادہ علاقے میں امریکی میرینز ایک مشق کے دوران،فائل فوٹو

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس سال نومبر تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے چار سے پانچ ہزار تک کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے ایچ بی او ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے یہ بات ایسے موقع پر کی جب امریکی وزیرخارجہ پومپیو نے پیر کے روز افغان طالبان کی اعلیٰ مذاکرات کار سے ویڈیو لنک کے ذریعے افغان امن عمل کے بارے میں بات چیت کی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ ہم کچھ ہی عرصے میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرکے آٹھ ہزار تک لے جائیں گے، اور اس کے بعد کچھ ہی عرصے میں اس تعداد کو چار ہزار تک لے جائیں گے۔ ہم اس بارے میں مذاکرات کر رہے۔ ہم وہاں انیس سال سے ہیں۔"

امریکی صدر نے اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی بلکہ یہ کہا کہ ایسا بہت جلد کیا جائے گا۔

ہفتے کے دن نامہ نگاروں نے صدر سے یہ سوال کیا تھا کہ نومبر میں صدارتی انتخاب کے موقع پر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کیا ہو گی۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ غالباً چار سے پانچ ہزار کے درمیان۔ صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ہم مناسب وقت پر جلد ہی افغانستان سے نکلنے والے ہیں۔

فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا اور اس کے بعد امریکی فوجوں کا بتدریج انخلا شروع ہو گیا تھا۔ اس سے پیشتر یہ تعداد 13 ہزار کے قریب تھی اور اب یہ کم ہو کر 8 ہزار 6 سو رہ گئی ہے۔ جب کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے پانچ فوجی اڈے بھی خالی کر دیے ہیں۔

اس سمجھوتے کے تحت امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا جولائی 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت طالبان افغان حکومت اور دوسرے فریقوں سے مذاکرات کر کے ملک میں امن قائم کریں گے۔

اسی معاہدے کے تحت افغان حکومت کو پانچ ہزار طالبان قیدی اور طالبان کو ایک ہزار افغان سیکیورٹی اہل کاروں کو رہا کرنا تھا۔ لیکن افغانستان کے صدر غنی نے چار سو طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ انتہائی سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

صدر غنی نے اعلان کیا کہ وہ ان قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں لویا جرگہ بلائیں گے جو ان قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔

پیر کے روز طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ قطر میں موجود طالبان کے لیڈر ملا عبدالغنی برادر نے امریکی وزیر خارجہ پومپیو سے ویڈیو لنک پر بات کرتے ہوئے بقیہ قیدیوں کی رہائی پر زور دیا اور کہا کہ اس کے بغیر امن مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

شاہین نے یہ بھی بتایا کہ پومپیو نے عید کے موقع پر تین روزہ فائر بندی کا خیر مقدم کیا، جو اتوار کو ختم ہو گئی تھی۔ طالبان کے ترجمان نے ویڈیو لنک پر ہونے والے مذاکرات کی تصاویر بھی ٹوئٹ کیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پومپیو اور ملا غنی کے درمیان ہونے والے رابطے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG