رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان امریکہ معاہدے کا حتمی مسودہ نہیں ملا: افغان حکومت


افغان صدارتی محل کے مطابق صدر اشرف غنی کو گزشتہ ایک، دو روز میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مجوزہ امن معاہدے کا کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدارتی محل نے طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ ملنے کی تردید کی ہے۔

افغان صدارتی محل کے مطابق، صدر اشرف غنی کو گزشتہ ایک، دو روز میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مجوزہ امن معاہدے کا کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا ہے۔

افغان صدارتی محل کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا ہے کہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے دوحا میں جاری مذاکرات کے آٹھویں دور سے قبل امن معاہدے کے بعض نکات سے افغان حکومت کو اس وقت آگاہ کیا تھا جب وہ کابل آئے تھے۔

ترجمان کے بقول، زلمے خلیل زاد اور افغان حکومت تفصیلی معاہدے پر کام کر رہے تھے۔ لیکن، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے آٹھویں دور میں ہونے والی پیش رفت کے بعد معاہدے کا کوئی حتمی مسودہ صدر اشرف غنی کو موصول نہیں ہوا۔

قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور جاری ہے (فائل فوٹو)
قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور جاری ہے (فائل فوٹو)

اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ صدر اشرف غنی کو امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا حتمی مسودہ موصول ہوا ہے۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے کہا تھا کہ وہ صدر اشرف غنی کو امن معاہدے کا مسودہ ملنے کی خبروں کی نہ تو تصدیق کر سکتے ہیں، نہ ہی تردید۔

افغان حکومت کے قابلِ اعتماد ذرائع نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ امریکی حکام نے افغان حکومت کو امن معاہدے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ فریقین عید الاضحیٰ کے بعد مجوزہ معاہدے پر دستخط کردیں گے۔

وائس آف امریکہ کو ایک اور ذریعے نے بتایا ہے کہ صدر اشرف غنی نے امن معاہدے کے مسودے میں موجود لفظ 'امارات' پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان اپنی تحریک کے لیے "اماراتِ اسلامیہ" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو ریاست کے ہم معنی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے اوسلو میں ناروے کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں خلیل زاد نے کہا ہے کہ ناروے افغان تنازع کے حل میں مددگار ہو سکتا ہے اور اس نے اس بارے میں کردار ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں جاری 18 سالہ جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں مذاکرات جاری ہیں۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کا یہ آٹھواں دور ہے جسے سفارت کار اہم اور نتیجہ خیز قرار دے رہے ہیں۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان بیشتر معاملات پر اتفاق ہوگیا ہے جس کے بعد قوی امکان ہے کہ رواں ماہ ہی امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG