رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ افغانستان سے ہزاروں فوجی واپس بلانے پر تیار: رپورٹ


فائل فوٹو

امریکہ کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق، یہ انخلا افغان طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کی پیشگی شرائط کا حصہ ہو سکتا ہے۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکہ افغان طالبان سے معاہدے کی ابتدائی شرط کے تحت اپنے تقریباً چھ ہزار فوجی افغانستان سے واپس بلانے پر آمادہ ہو گیا ہے جس کے بدلے طالبان افغانستان میں سیز فائر اور القاعدہ کو دوبارہ پنپنے نہ دینے کی یقین دہانی کرائیں گے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانا 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی طرف ابتدائی قدم ہوگا۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بدلے افغان طالبان کو افغانستان کی حکومت سے براہِ راست مذاکرات پر آمادہ ہونا ہوگا۔

امریکہ کے اس وقت افغانستان میں تقریباً 14 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔ چھ ہزار اہلکاروں کے انخلا کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 8 سے 9 ہزار کے درمیان رہ جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان افغان جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔

زلمے خلیل زاد افغان نژاد امریکی سفارت کار ہیں جنہیں ٹرمپ حکومت نے گزشتہ سال طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی تھی۔

امریکی حکام کو امید ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا معاہدہ ستمبر میں ہونے والے افغانستان کے صدارتی انتخابات سے قبل طے پاجائے گا۔ البتہ حکام نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبان کی طرف سے معاہدے میں تاخیر کی کوشش کی جاسکتی ہے جس سے امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق اس ابتدائی معاہدے کے بارے میں گفتگو کرنے سے گریز کیا ہے۔

امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ امریکہ سے دوبارہ مذاکرات کب شروع ہوں گے۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ معاملات بہتری کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ امن معاہدے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ لیکن، ان کے بقول، یہ امریکہ کی سنجیدگی پر منحصر ہے۔

واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد بدھ کو اپنی ٹوئٹ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جلد افغان طالبان سے مذاکرات کے آٹھویں دور کے لیے دوحا جائیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر دونوں فریقین نے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو امن معاہدہ ہو جائے گا۔

​امریکی حکام کے مطابق، امریکہ کے مزید فوجیوں کے انخلا کا معاملہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے بعد زیرِ بحث آئے گا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے حکام کے مطابق، افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل آسٹن اسکاٹ ملر بھی افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی تجویز سے متفق ہیں۔ لیکن، وہ وہاں انسدادِ دہشت گردی کی فورس کی موجودگی برقرار اور القاعدہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

جنرل آسٹن ملر نے گزشتہ سال افغانستان میں موجود امریکی فوج کی کمان سنبھالی تھی اور کہا تھا کہ افغان جنگ کے خاتمے کا راستہ مذاکرات ہی ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کمانڈر شان رابرٹسن نے واضح کیا ہے کہ محکمۂ دفاع نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔

انہوں نے افغانستان سے فوج کے انخلا سے متعلق کوئی بات کرنے سے بھی گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمۂ دفاع فوجی حکمت عملی پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔

کمانڈر شان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہماری حکمتِ عملی وہاں کے حالات کے مطابق ہوتی ہے۔ جب تک افغانستان میں امریکی فوج کا رہنا امریکہ کے مفاد میں ہوگا امریکی فوج افغانستان میں ہی رہے گی۔

افغان حکام کے مطابق، ہو سکتا ہے کہ ابتدائی طور پر طالبان اور امریکہ کے درمیان کچھ امریکی فوجیوں کے انخلا پر اتفاق ہوجائے لیکن یہ انخلا کتنے عرصے میں ہوگا، یہ تاحال واضح نہیں۔

واضح رہے کہ پینٹاگون کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ کے 2400 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 20 ہزار سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG