رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ


ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر خواتین ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق ملک بھر سے نتائج جمع کرنے میں کئی روز لگیں گے جس کے باعث حتمی نتائج کا اعلان دو ہفتے سے قبل ممکن نہیں ہوگا۔

افغانستان میں پارلیمان کے ارکان کے انتخاب کے لیے ہفتے کو انتہائی سخت سکیورٹی میں ووٹ ڈالے گئے۔

ووٹنگ ہفتے کی صبح سات بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام چار بجے تک جاری رہی۔ انتخابات میں کل 2450 امیدوار پارلیمان کی 250 نشستوں کے لیے حصہ لے رہے ہیں۔

افغان الیکشن کمیشن نے ایسے پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ ڈالنے کے وقت میں شام آٹھ بجے تک توسیع کردی ہے جہاں ووٹنگ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ جن پولنگ اسٹیشنز پر کسی وجہ سے ہفتے کو پولنگ منعقد ہی نہیں ہوسکی وہاں اتوار کو پولنگ کرائی جائے گی۔

حکام کے مطابق ملک بھر سے نتائج جمع کرنے میں کئی روز لگیں گے جس کے باعث حتمی نتائج کا اعلان دو ہفتے سے قبل ممکن نہیں ہوگا۔

افغان صدر اشرف غنی نے بھی ہفتے کی صبح کابل کے ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا اور اپنا ووٹ ڈالا۔

طالبان کی دھمکیوں اور جمعرات کو قندھار میں ہونے والے ایک بڑے حملے میں اعلیٰ صوبائی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہنے کی توقع تھی۔

تاہم افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کابل سمیت کئی بڑے شہروں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر رائے دہندگان کی قطاریں نظر آئیں جہاں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے اپنی باری کے منتظر تھے۔

جمعرات کو قندھار میں ہونے والے ایک حملے میں صوبائی پولیس اور انٹیلی جنس سربراہان کی ہلاکت کے بعد جنوبی صوبے میں انتخابات ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردیے گئے تھے۔

مختلف نسلی گروہوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث صوبہ غزنی میں بھی ہفتے کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔

طالبان نے انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور افغان عوام سے کہا تھا کہ وہ انتخابات کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں 7355 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جانے تھے لیکن سکیورٹی خدشات کے باعث ان میں سے ہفتے کو صرف 5100 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کو ووٹنگ کے آغاز پر دارالحکومت کابل اور شمالی شہر قندوز پر راکٹ حملے کیے گئے۔ وسطی افغانستان کے شہر غزنی میں بھی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جب کہ صوبہ کپیسا اور کابل سے متصل بعض اضلاع میں چند چھوٹے دھماکوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

افغان حکام کے مطابق ان واقعات میں چند افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں لیکن تاحال دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل لگ بھگ ایک ماہ جاری رہنے والی انتخابی مہم کے دوران مختلف جلسوں پر جنگجووں کے حملے میں کم از کم نو امیدواروں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انتخابی عمل کے آغاز سے ہی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے بے تحاشا الزامات کے باعث پورے انتخابی عمل کی شفافیت اور اس کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 88 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں لیکن کئی حلقوں کا الزام ہے کہ ان میں سے لاکھوں ووٹرز جعلی ہیں یا ووٹر فہرستوں میں ان کے درست اندراج نہیں کیا گیا ہے۔

انتخابات کو افغان حکومت کی ساکھ اور ملک بھر میں انتخابات کرانے کی اس کی صلاحیت کا امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے جس کے اثرات آئندہ سال اپریل میں ہونے والے زیادہ اہم صدارتی انتخابات پر بھی پڑیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG