رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا محور اقتصادی و سماجی معاملات رہیں گے'


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو صدارت سنبھالنے پر مبارک باد دی ہے اور ان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے خواہش کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں عمران خان نے کہا کہ وہ صدر جو بائیڈن کے ساتھ تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کے ذریعے پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے آب و ہوا کی تبدیلی، صحتِ عامہ اور بد عنوانی کے خاتمے سمیت دوسرے شعبوں میں بھی تعاون کا ذکر کیا۔

عمران خان نے کہا کہ وہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے امریکہ کے صدر کے ساتھ کام کرنے کی امید کرتے ہیں۔

اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے وسیع امکانات موجود

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کیوں کہ امریکہ پاکستان کے چند بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا بنیادی محور سیکیورٹی امور کی بجائے اقتصادی اور سماجی معاملات ہوں گے۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان سے یہ نظر آتا ہے کہ اب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا محور سیکیورٹی امور نہیں ہوں گے بلکہ دیگر باہمی معاملات ہوں گے۔

ان کے بقول اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اس تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کس طرح پیش رفت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے چین سے تعلقات اور بھارت کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری کے فریم ورک میں نئی امریکی انتظامیہ کے پاکستان سے تعلقات کیسے ہوں گے یہ آئندہ چند ماہ میں واضح ہو گا۔

حسن عسکری کا کہنا تھا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کو جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔

ان کے بقول پاکستان بھارت مخاصمت، چین سے متعلق پالیسی، افغانستان اور ایران کے ساتھ امور کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کی نوعیت واضح ہو گی۔

آزادانہ تجارت کے معاہدے کے لیے بات چیت پر زور

دوسری جانب اقتصادی امور کے ماہر اور سابق مشیرِ خزانہ سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مقاصد میں شامل ہے۔

ان کے بقول افغانستان اور خطے میں قیامِ امن کے بعد خطے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے لیے بھی بات چیت ہونی چاہیے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادانہ تجارت کی بجائے پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ ترجیحی معاہدے زیادہ سود مند ہوں گے۔

تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ اگر افغانستان میں صورتِ حال مستحکم ہوتی ہے، تو پاکستان کے مسائل بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد اس بات کا بھی خواہاں ہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں استحکام آئے، جو پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کی وجہ سے اسلام آباد کے تہران سے تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ اگر امریکہ اور مغربی ممالک ایران سے متعلق ایک متفقہ پالیسی اختیار کریں تو اس کی وجہ سے خطے میں تناؤ کم ہو سکتا ہے۔

بین الافغان مذاکرات کا ایک جائزہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:33 0:00

خیال رہے کہ جو بائیڈن نے بدھ کو امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنی پہلی تقریر میں، انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کے بین الاقوامی اتحادوں کو مضبوط کریں گے۔

واشنگٹن میں منعقدہ ایک حالیہ مباحثے میں امریکی ماہر بروس رائیڈل نے کہا تھا کہ افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس کو پاکستان کی مدد درکار ہو گی اور اس سلسلے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جو بائیڈن کے نامزد وزیرِ دفاع لائیڈ جے آسٹن نے بھی کہا ہے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ پاکستان کو افغانستان میں امن کے حوالے سے لازمی حلیف سمجھتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG