رسائی کے لنکس

ترک فورسز کا شام کے اہم شہر عفرین کا محاصرہ


عفرین کے قریب ایک فوجی جیپ کو اپنا مورچہ بنائے ایک ترک فوجی اپنا ہاتھ ہلا ریا ہے۔ 3 مارچ 2018
عفرین کے قریب ایک فوجی جیپ کو اپنا مورچہ بنائے ایک ترک فوجی اپنا ہاتھ ہلا ریا ہے۔ 3 مارچ 2018

ترک قیادت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شام کے شمال مغرب میں واقع ہزاروں کی آبادی پر مشتمل ایک شہر عفرین کا محاصرہ کر لیا ہے۔ یہ شہر ترک کے فوجی آپریشن آلیو برانچ (زیتون کی شاخ) کا اہم ہدف ہے۔

جنوری میں شروع کی جانے والی اس فوجی کارروائی کا مقصد شام کی کرد ملیشیا وائی پی جی کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے، جسے انقرہ ترکی کے اندر عشروں سے جاری شورش میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھی کے طور پر دیکھتا ہے۔

انقرہ یہ انتباہ کر چکا ہے کہ عفرین پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔ پیر کے روز ترکی کے نائب وزیراعظم بکر بوزداغ نے کہا تھا کہ توقع ہے کہ عفرین کو جلد ہی دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا جائے گا اور مقامی آبادی کو دہشت گردوں کے ظلم و ستم اور سفاکیوں سے نجات مل جائے گی۔

عفرین کی آبادی بہت زیادہ ہے جس میں بہت سے ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے شام کی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ اس شہر پر بڑے حملے سے بین الاقوامی کمیونٹی میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ ترک نائب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہاں ایک بھی عام شہری ہلاک ہوا ہے اور نہ ہی زخمی۔

جنوری میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے جسے فضائی مدد بھی حاصل ہے، ترک فوجیوں نے تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور نسبتاً اسے کم جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ کرد ملیشیا عفرین کے دفاع کے لیے دوسری جگہوں سے اپنی فورسز نکال لے گی۔

اطلاعات کے مطابق شام نے محصور شہر کے قریب اپنی فوج جمع کرنی شروع کر دی ہے۔ اور کرد گروپ وائی پی جی نے کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گا اور عفرین کا دفاع کرے گا۔

دوسری جانب ترک لیڈر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ عفرین کی فتح کے بعد ترک فورسز منبج کا رخ کریں گی جو وائی پی جی کا دوسرا بڑا گڑھ ہے۔

XS
SM
MD
LG