رسائی کے لنکس

ترک فوج شام میں داخل، کرد ملیشیا سے جھڑپیں


ترک فوجی دستے شام کی سرحد کی طرف جارہے ہیں (21 جنوری 2018ء)

ترکی نے حالیہ کارروائی امریکہ کے اس اعلان کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے شام کے ان شمالی علاقوں میں 30 ہزار جنگجووں کی تربیت کا کہا تھا جو 'وائی پی جے' اور اس کی اتحادی 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' کے زیرِ قبضہ ہیں۔

ترکی سے متصل شام کے صوبے عفرین میں ترک فوج اور شامی کرد ملیشیا 'وائی پی جے' کے جنگجووں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

ترکی نے ہفتے کو عفرین میں سرگرم 'وائی پی جی' کے جنگجووں کے ٹھکانوں پر توپ خانے اور جنگی طیاروں سے بمباری کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے بعد اتوار کو ترکی کی بری فوج سرحد عبور کرکے شام میں داخل ہوگئی تھی۔

ترک حکومت نے سرحد پار جاری اس فوجی آپریشن کو 'آپریشن اولِو برانچ' یعنی 'شاخِ زیتون' کا نام دیا ہے جو امن کی علامت ہے۔

ترکی 'ووائی پی جی' کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جو شام کے صدر بشار الاسد اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی اہم اتحادی ہے۔

ترکی ماضی میں بھی 'وائی پی جے' کو ملنے والی امریکی امداد پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتا آیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ 'وائی پی جے' کے جنگجو ترکی میں سرگرم کرد علیحدگی پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔

ترکی نے حالیہ کارروائی امریکہ کے اس اعلان کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے شام کے ان شمالی علاقوں میں 30 ہزار جنگجووں کی تربیت کا کہا تھا جو 'وائی پی جی' اور اس کی اتحادی 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' کے زیرِ قبضہ ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اتوار کو 'وائی پی جی' کے خلاف کارروائی کے لیے ترک فوجی دستوں کے شام کی سرحد عبور کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے اس کارروائی کے بارے میں شام اور روس کو مطلع کردیا ہے اور ان کے بقول اگر اللہ نے چاہا تو وہ یہ کارروائی بہت جلد مکمل کرلیں گے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جِم میٹس نے کہا ہے کہ ترکی نے کارروائی سے قبل امریکہ کو بھی مطلع کیا تھا اور ان کے بقول "امریکہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔"

امریکہ نے 'وائی پی جی' کے خلاف ترکی کی فوجی پیش قدمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائی کا دورانیہ اور دائرہ محدود رکھے اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ فوجی دستوں کی پیش قدمی کے علاوہ ترک توپ خانہ کرد جنگجووں کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ زمینی فوج کو فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

ترک فوج کو اس کارروائی میں 'فری سیرین آرمی' کے جنگجووں کی مدد بھی حاصل ہے جنہیں ترکی مدد دیتا آیا ہے۔

ایک جنگجو کمانڈر کے مطابق فری سیرین آرمی کے لگ بھگ 25 ہزار جنگجو کارروائی میں شریک ہیں جن کا مقصد کمانڈر کے بقول ان عرب علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا ہے جن پر کرد جنگجووں نے دو سال قبل قبضہ کرلیا تھا۔

اسی دوران شامی سرحد سے فائر کیے جانے والے راکٹ ترکی کے کم از کم دو سرحدی قصبوں میں گرے ہیں جن سے ترک حکام کے بقول درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

'وائی پی جی' کے ترجمان بیرسک ہساکا نے الزام لگایا ہے کہ ترکی کا توپ خانہ اور فضائیہ سرحدی دیہات پر شدید بمباری کر رہے ہیں جب کہ عفرین شہر کے شمال اور مغرب میں ترک فوجی دستوں اور جنگجووں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔

ترکی کے ایک نشریاتی ادارے نے وزیرِ اعظم بن علی یلدرم کے حوالے سے کہا ہے کہ اس فوجی کارروائی کا مقصد شام ترک سرحد پر 30 کلومیٹر چوڑے ایک 'سیف زون' کا قیام ہے تاکہ کرد جنگجووں کو ترکی کی سرحد سے دور رکھا جاسکے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ترکی نے یہ کارروائی شام میں امریکہ کے یک طرفہ اقدامات سے سیخ پا ہو کر کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG