رسائی کے لنکس

logo-print

کیا اوباما کے بعد غیر ملکی امداد کا معاملہ غیر یقینی ہوگا؟


سینیٹ کی ایک حالیہ سماعت کے دوران، نامزد وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کہا کہ ’’اگر ہم کسی ایسے ملک کو امداد فراہم کرتے ہیں جہاں ہمیں پتا ہے کہ ایسے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں، تو ہم دی جانے والی امداد پر عمل درآمد کو کس طرح یقینی بنا سکتے ہیں؟‘‘

اوباما کی انتظامیہ کو یہ شہرہ حاصل رہا ہے کہ اُس نے بیرونی ملکوں کی امداد کے کئی ایک پروگرام جاری کر رکھے ہیں، جن میں موسمیاتی تبدیلی کا تدارک اور اسقاط حمل کے معاملے شامل ہیں، جنھیں اِس ہفتے انتظامیہ کی میعاد پوری ہونے پر خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ نئے صدر اور وزیر خارجہ کی جانب سے غیر ملکی اعانت کے تمام پروگرام کی جانچ پڑتال ہوگی، جب کہ توجہ مرکوز کیے جانے کی کاروباری شہرت پر دھیان مبذول ہوگا۔

گذشتہ ہفتے نامزدگیوں کی توثیق کی سماعت کے دوران، سینیٹروں نے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن سے سوال کیا آیا وہ اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ بد عنوان حکومتیں دی جانے والی امریکی امداد کو خرد برد یا چوری نہیں کریں گی۔

ٹِلرسن، جنھوں نے پوری زندگی ’ایکسون موبیل‘ کے ادارے میں گزاری ہے، کہا کہ ’’اگر ہم کسی ایسے ملک کو امداد فراہم کرتے ہیں جہاں ہمیں پتا ہے کہ ایسے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں، تو ہم دی جانے والی امداد پر عمل درآمد کو کس طرح یقینی بنا سکتے ہیں؟‘‘

’ہیرٹیج فاؤنڈیشن‘ کے رسرچ فیلو، جیمز رابرٹس، جو محکمہٴ خارجہ کے امورِ خارجہ سے متعلق ایک سابق اہل کار رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ ’’مغربی ملکوں کی جانب سے دی جانے والی بیرونی امداد، جو امریکہ، ’آرگنائزیشن فور اکانامک کواپریشن اینڈ ڈولپمنٹ‘ (او اِی سی ڈی) ممالک کی جانب سے دی جاتی ہے، محض بدعنوان حکومتوں کو اقتدار میں رکھنے کا سبب بنتی ہے‘‘۔
سنہ 1960ء میں 14 دسمبر کو 20 ملکوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او اِی سی ڈی) تشکیل دینے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے؛ جس کے بعد مزید 14 ممالک اِس ادارے کے رُکن بن چکے ہیں۔
رابرٹس نے توجہ دلائی کہ چند افریقی ملک ایسے بھی ہیں جِن کے سربراہان کئی دہائیوں سے اقتدار میں ہیں، جب کہ وہ بین الاقوامی امدادی پروگرام سے امداد حاصل کرتے رہے ہیں۔
افریقہ وہ خطہ ہے جس کے بارے میں منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی محکمہٴ خارجہ کی عبوری ٹیم جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، عبوری ٹیم کے عملے نے افریقہ سے متعلق چار صفحات پر مشتمل سوالات پر کام کرنا شروع کر دیا ہے جس نے ’’طویل مدت سے افریقہ کے مطالعے میں شامل ماہرین کو چوکنہ کر دیا ہے، جو کہتے ہیں کہ سوالات کی نوعیت اور لہجے سے پتا چلتا ہے کہ ترقی اور انسانی ہمدردی کی نوعیت کے امریکی اہداف سے ہاتھ کھینچے جا سکتے ہیں، جب کہ ساتھ ہی براعظم میں دستیاب کاروباری مواقع میں پیش رفت کا سوچا جا رہا ہے‘‘۔
اخبار کو موصول ہونے والی ایک خفیہ دستاویز میں درج ابتدائی سوالات میں یہ سوال شامل ہے: ’’دیگر افریقی ملکوں کے ساتھ امریکی کاروبار کس طرح مسابقت کے قابل قرار دیا جائے گا؟ ہم چین کے مقابلے میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں؟‘‘

XS
SM
MD
LG