رسائی کے لنکس

logo-print

افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقوں میں پر تشدد واقعات میں اضافہ، شہری پریشان


فائل فوٹو

پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ اضلاع میں دہشت گردی اور پرتشدد واقعات کے بعد سکیورٹی سخت کر دی ہے جبکہ شاہراہوں پر چوکیوں میں نفری بھی بڑھا دی گئی ہے ۔

خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے علاقے شاہی کوٹ میں گزشتہ روز سرحد پر باڑ لگانے والے اہلکاروں پر افغانستان سے مبینہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ جس میں تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ حکام نے جوابی کارروائی میں دو حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔

شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام کے گاؤں اباخیل میں ہونے والی جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔

جھڑپ کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے گاؤں اباخیل کا محاصرہ کر لیا تھا اور گھر گھر تلاشی کی مہم شروع کر دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بعض مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی کے سخت اقدامات پر شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ملک غلام کا کہنا ہے کہ امن وامان کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔

قبائلی علاقے کے حوالے سے ملک غلام کا کہنا تھا کہ دن کے وقت تو عوام سڑکوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی چوکیوں پر موجودگی میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں لیکن رات کے وقت چوکیوں سے دور علاقوں میں عسکریت پسند اور جرائم پیشہ عناصر کارروائیاں کرتے رہتے ہیں ۔

فوج کے 2014 کے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کی تھی مگر اب واپسی پر بھی حالات اطمینان بخش نہیں ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ خان گنڈا پور اس حوالے سے کہتے ہیں کہ پولیس فورس کا نظام چونکہ ان قبائلی اضلاع میں بالکل نیا ہے۔ اس لیے مشکلات تو آ رہی ہیں مگر حالات میں بتدریج بہتری بھی دیکھی جا رہی ہے۔

ایک اور قبائلی رہنما خالد خان داوڑ نے تمام تر قبائلی اضلاع کے امن وامان کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے پر تشدد واقعات، دہشت گردی اور گھات لگا کر قتل کرنے کی وارداتیں تواتر سے ہو رہی ہیں۔

ان واقعات کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ عام لوگ کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور سے طورخم تک شاہراہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے لیے دن رات کھلی رہتی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں تمام تر سڑکیں، کاروباری مراکز اور معاشی سرگرمیاں شام سے صبح تک معطل ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کے افغانستان میں سابق سفیر رستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں افغان حکومت کی عمل داری نہیں ہے۔ وہاں پر چھپے عسکریت پسند مختلف علاقوں میں حملے کرتے رہتے ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

رستم شاہ مہمند نے کہا کہ افغان حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکے ۔

سابق سفیر کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے علاوہ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب قبائل بھی بھاڑ لگانے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

قبائل کے حوالے رستم شاہ مہمند کا دعویٰ تھا کہ وہ بھی موقع پاتے ہی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔

دوسری جانب رستم شاہ مہمند کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سابق سینیٹر اور تجزیہ کار افراسیاب خٹک نے کہا کہ دہشت گردی کا تسلسل پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ اگر طالبان عسکریت پسند سرحد پار افغانستان چلے گئے ہیں تو ان کے ساتھی اب بھی یہاں پر موجود ہوں گے۔

میران شاہ — فائل فوٹو
میران شاہ — فائل فوٹو

سابق سینیٹر نے یاد دلایا کہ ان عسکریت پسندوں نے قبائلی علاقوں پر لگ بھگ 10 سال تک قبضہ کیے رکھا۔

خیال رہے کہ ایک ایسے وقت میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد پر پُرتشدد واقعات اور دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جب مشرقی سرحد پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے اس کشیدگی کو مدنظر رکھ کر مغربی سرحد سے محدود تعداد میں فوجی دستے مشرقی سرحد پر منتقل کیے ہیں۔

فوج کی افغان سرحد سے بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد پر منتقلی سے اب مغربی سرحد پر موجود عسکریت پسندوں کے دوبارہ سرگرم ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG