رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان اور دیر میں دو مختلف واقعات میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقے شمالی وزیرستان میں تین مختلف واقعات میں چار فوجیوں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب دو بھائیوں اور ایک فوجی اہلکار کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی۔

مقامی صحافیوں نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سپین وام میں ہونے والے واقعے کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

مقامی افراد نے مارے جانے والے بھائیوں کی شناخت 28 سالہ حسین شاہ اور 22 سالہ بجھت اللہ کے نام سے کی۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق سپین وام کے آبا خیل گاؤں میں ایک گھر سے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔

بیان کے مطابق اہلکاروں پر شناخت کے باوجود فائرنگ جاری رہی۔ جوابی کارروائی میں دو مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔

فوج نے ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت 23 سالہ سپاہی اختر حسین ظاہر کی جو گلگت بلتستان کے مکین تھے۔

مقامی قبائلیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک نقاب پوش حملہ آور نے گھر میں گھس کر دونوں بھائیوں پر فائرنگ کی جس سے دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

اہل علاقہ کا مزید کہنا تھا کہ رشتہ داروں اور دیگر افراد کے جوابی فائرنگ میں حملہ آور مارا گیا۔ مقامی لوگوں نے ہلاک ہونے والے کی لاش قبضے میں لے لی تھی۔ بعد ازاں حملہ آور کی شناخت سکیورٹی اہلکار کے حیثیت سے ہوئی۔

قبائلی افراد نے ہلاک ہونے والے فوجی کی لاش تحصیل دار، پولیس حکام اور جرگے کی مداخلت پر انتظامیہ کے حوالے کی جبکہ واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے گاؤں کا محاصرہ کیا جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مقامی صحافی صفدر داوڑ کے مطابق پچھلے چند ماہ سے تشدد اور دہشت گردی کے واقعات نے عام لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں اتمان وزیر اور داوڑ قبیلے کے رہنماؤں کا جرگہ بھی ہوا جس میں حکومت سے ایسے واقعات پر قابو پانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جرگے سے خطاب میں قبائلی رہنماؤں نے بے گناہ اور غیر مسلح افراد کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر بھی شدید تنقید کی۔

سرحد پار سے حملہ، 3 اہلکار ہلاک

خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی ضلعے دیر بالا کے علاقے شاھی کوٹ میں مبینہ طور پر سرحد پار سے عسکریت پسندوں نے فوجی چوکی پر حملہ کیا۔

حملے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ ایک فوجی زخمی ہوا۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی عمریں 22 سے 31 سال کے درمیان تھی۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گھات لگا کر قبائلی رہنما کا قتل

علاوہ ازیں شمالی وزیرستان کے گاؤں تپی میں گھات لگا کر ایک شخص کو قتل کیا گیا۔

قتل ہونے والا شخص مقامی قبائلی رہنما شیر ایاز بتایا جاتا ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے۔

گاؤں تپی میں واردات میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد آپس میں رشتے دار بتائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

علاوہ ازیں شمالی وزیرستان سے ملحقہ جنوبی وزیرستان کے مرکزی انتظامی شہر وانا سے تین روز قبل اغوا کیے جانے والے ڈاکٹر کی بحفاظت بازیابی کے لیے احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا۔

ڈاکٹر کے اغوا کےخلاف جنوبی وزیرستان کے تمام اسپتالوں میں مسلسل تیسرے دن ہڑتال کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG