رسائی کے لنکس

کولوراڈو فائرنگ میں ملوث شخص کے پس منظر کی پڑتال جاری، امریکی عہدیدار


ریاست کولوریڈا میں فائرنگ کے واقعہ میں ملوث اکیس سالہ احمد العلوی علی سا کا تعلق شام سے ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر بولڈر میں فائرنگ کے واقعہ میں ملوث شخص کے پس منظر کی جانچ پڑتال کا کام مرکزی اور مقامی محکموں کے تفتیش کار کر رہے ہیں۔

بولڈر شہر کے ایک گروسری سٹور میں پیر کے روز مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے 21 برس کے احمد العلوی علی سا کی فائرنگ سے 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 51 برس کے پولیس اہلکار ایرک ٹیلی بھی شامل تھے، جو فائرنگ کی اطلاع ملنے پر سب سے پہلے گروسری سٹور پہنچے تھے۔

احمد کو پیر کے روز کنگ سپر سٹور سے گرفتار کیا گیا، جو کہ ان کے گھر سے کوئی 25 کلو میٹر دور ہے۔

احمد کا خاندان شام سے امریکہ آیا تھا۔ حکام کا منگل کے روز کہنا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ امریکہ میں گزارا ہے۔

پولیس نے اپنے بیانِ حلفی میں کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے پولیس افسروں کو ملزم کی چھوڑی ہوئی متعدد اشیا ملیں۔ ان اشیا میں، سبز رنگ کی فوجی جیکٹ، ایک رائفل اور ایک نیم خود کار گن، جینز کی پتلون اور قمیض شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اشیا کے قریب بہت سا خون بھی تھا۔

احمد کی گرفتاری کے بعد، اُسے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی ٹانگ پر گولی لگنے سے آنے والے زخم کی مرہم پٹی کی گئی۔

بیانِ حلفی میں کہا گیا ہے کہ احمد نے فائرنگ سے 6 روز پہلے Ruger AR-556 پسٹل خریدا تھا۔

بیانِ حلفی میں احمد کی بھابی کی اس کے ساتھ گفتگو کا متن بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق، فائرنگ سے دو روز قبل، انہوں نے احمد کو ایک ہتھیار سے کھیلتے دیکھا تھا، جو ان کے بقول، مشین گن کی طرح لگ رہا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ احمد کے خاندان نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ احمد ذہنی طور پر صحت مند نہیں تھا، اور وہ وہم اور وسوسوں کا شکار رہتا تھا۔

احمد کے بھائی نے کیبل نیوز نیٹ ورک CNN کو بتایا کہ اس میں وہم اور وسوسے کی علامات بڑھتی جا رہی تھیں۔ سن 2014 میں اُسے شک تھا کہ اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔

محکمہ پولیس کے ایک تفتیشی افسر ڈیوڈ سنیلنگ کا کہنا تھا کہ پولیس کا ماضی میں بھی احمد کے ساتھ واسطہ پڑا تھا۔ اُنہوں نے سن 2017 کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس میں احمد نے آرویڈا میں اپنے ہائی سکول کے ایک ہم جماعت کو پیٹا تھا، جس سے وہ لہو لہان ہو گیا تھا۔ احمد کو چند روز کے لیے سکول سے نکال دیا گیا تھا۔ ایک اور واقعہ میں تیز رفتاری پر اُن کا چالان کیا گیا تھا۔

احمد کے ایک ہم جماعت نے بتایا کہ وہ جلد غصے میں آ جاتا تھا اور اسے ہر وقت یہ وہم رہتا تھا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ احمد کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG