رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی احمدیوں کا بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ


فائل فوٹو

پاکستان کی احمدی برادری نے گزشتہ سال ملک بھر میں احمدیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات اور امتیازی سلوک سے متعلق ایک جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔

جائزہ رپورٹ میں حکومت پاکستان سے احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمدی برادری کے افراد کے خلاف 2018ء میں تشدد کے واقعات جاری رہے جبکہ ان کے ساتھ سماجی سطح پر بھی امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔

رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ‘‘احمدیوں کے خلاف سماجی اور سرکاری سطح پر امتیازی رویوں کا سبب بننے والے امتیازی قوانین کو ختم کر کے ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔’’

پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں احمدی برادری کے خلاف 2018ء میں سماجی سطح پر روا رکھے جانے والے مبینہ متعصبانہ رویوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر مذہبی تفریق کی بنا پر احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹیں مرتب کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے قوانین مساوی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور اسی بنا پر احمدی برادری نے گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

حکومت پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ دیگر اقلیتوں کی طرح احمد برادری پر بھی انتخابی عمل میں حصہ لینے پر کوئی قدغن نہیں تھی۔ احمدی برادری نے اپنے طور پر انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔

رپورٹ میں یہ شکوہ بھی کیا گیا ہے کہ احمدی برادری کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلا کر انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ احمدی برادری کی عبادت گاہوں کو بھی مشتعل ہجوم نے متعدد بار نشانہ بنایا۔ ایسے واقعات پر انتظامی ردعمل بھی مایوس کن تھا۔

رپورٹ کے مطابق عقیدہ ظاہر کرنے پر احمدی برادری سے وابستہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر شناختی کارڈ کے اجرا کے موقع پر مذہبی شناخت ظاہر کرنا لازمی ہے۔

پاکستان میں احمدی برادری کو آئین کے تحت غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور اس برادری کے افراد خود کو مسلمان قرار نہیں دے سکتے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ان کے خلاف تعزیراتی کارروائی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1984ء کے بعد سے لے کر اب تک عقیدے کی بنیاد پر 264 احمدیوں کو قتل کیا گیا جبکہ ان کی 28 عبادت گاہوں کو تباہ اور 39 کو بند کیا گیا۔

احمدی برادری کے مطابق ان کے خلاف ذرائع ابلاغ میں یک طرفہ مہم چلائی گئی جبکہ ان کا موقف لینے سے گریز کیا گیا۔

حکومتی عہدیداروں کا یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ حکومت نے نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ایسا مواد شائع کرنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG