رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی معاشی پالیسی اور احمدیوں کی آئین سے بغاوت کی بحث


جب سے عمران خان نے اپنی معاشی مشاورتی کونسل کا اعلان کیا ہے اس پر سوشل میڈیا پر جنگ کی سی کیفیت بن گئی ہے۔ کہیں داد کے ڈونگرے برس رہے ہیں تو کہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جو موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے وہ ایک احمدی عاطف میاں کا اس مشاورتی کونسل کا حصہ بننا ہے۔

اس پر بہت سے دلائل دونوں جانب سے دئے جا رہے ہیں مگر سینئیر صحافی ہارون رشید کی جانب سے دی گئی دلیل کی بازگشت سب سے زیادہ سنائی دی جا رہی ہے۔ ہارون رشید نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ دوسری آئینی ترمیم کے بعد بھی احمدیوں کا خود کو مسلمان سمجھنا آئین اور ریاست سے بغاوت ہے۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کے آئین کی کسی بھی شق سے اختلاف کرنے سے وہ باغی تصور ہوں گے؟

ہم نے یہ سوال ممتاز قانون دان اور انسانی حقوق کے کارکن اسد جمال سے پوچھا۔ اسد جمال کا کہنا تھا کہ یہ بات ایسے نہیں کہی جا سکتی کہ آپ آئین کی کسی شق یا کسی حصے سے اختلاف کرتے ہیں اور اس کے متضاد پوزیشن لیتے ہیں، ایک رائے بناتے ہیں اور اسے پھیلاتے ہیں تو آپ باغی ہیں یا ریاست سے آپ بغاوت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین ایک معاہدہ ہوتا ہے جس میں مختلف گروہ سمجھوتا کرتے ہیں۔ مثلا 1973 کے آئین میں ایسی بہت سی چیزیں تھیں جو بھٹو صاحب یا اس وقت کے بائیں بازو کے راہنماؤں بشمول جے اے رحیم اور مبشر حسن کو قبول نہیں ہونی چاہئے تھیں مگر اس وقت مان لی گئیں۔ اسد جمال نے کہا کہ ان راہنماؤں کے پیش نظر بنیادی بات یہی تھی کہ ان مطالبات کو ابھی مان لیا جائے اور بعد میں اس پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ سیاسی طور پر منقسم سماجوں میں ایسا ہونا عام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سب لوگ موجودہ آئین یا کسی بھی آئین کی ہر شق پر اتفاق کرنا شروع کر دیں تو اس میں ترمیم تو کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے آئین سازی اور جمہوریت کی جو بنیاد ہے، وہ تو ہے ہی اختلاف رائے، تغیر جمہوریت کا لازم و ملزوم حصہ ہے۔

دائیں بازو کے معروف کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی کا موقف تھا کہ یہ اس طرح تو بغاوت نہیں ہے۔ جو پاکستان میں احمدی ہیں انہوں نے آئین کی باقی چیزوں سے انکار تو نہیں کیا ہے۔

عامر صاحب کے نزدیک وجہ تنازع یہ ہے کہ احمدیوں نے آئین کی اس شق کو عملی طور پر نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب اس کو بغاوت کہیں یا کچھ بھی کہیں، وجہ تنازع یہی ہے کہ وہ اس ترمیم کو تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً وہ اس کے تحت ووٹر نہیں بنتے، رجسٹر نہیں ہوتے، الیکشن میں حصہ نہیں لیتے، خود کو قادیانی کہتے نہیں ہیں۔‘‘

فیس بک پر معروف ایکٹوسٹ اور لکھاری صفتین خان نے لکھا کہ ’’جس آئین و قانون کے تحت عاطف میاں کو کسی عہدے پر فائز کیا جا رہا ہے وہ اس کو غیر مسلم ہی سمجھتا ہے۔ اعتراض تب معقول ہوتا اگر حکومت عاطف میاں کو بطور اقلیتی رکن کی بجائے مسلمان کی حیثیت سے قبول کرتی۔‘‘

عامر خاکوانی کا موقف تھا کہ اسی معاشی مشاورتی کونسل میں اگر عمران خان کسی پاکستانی مسیحی معیشت دان کو یا کسی پاکستانی ہندو معیشت دان کو شامل کر لیں تو اتنا ردعمل نہیں آئے گا۔ جب جسٹس بھگوان داس چیف جسٹس بنے تو لوگوں کو اس پر مسئلہ نہیں ہوا۔ مگر جب کسی احمدی کو شامل کیا جاتا ہے تو لوگوں کا خیال ہے کہ احمدی اپنی مذہبی قیادت کے اطاعت گزار ہیں اور عام لوگوں میں ان کے بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں۔

فیس بک پر ہی معروف ایکٹوسٹ اور لکھاری انعام رانا نے لکھا کہ ’’احمدی حضرات پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لیتے ہیں۔ کسی احمدی نے بھی اس حلف نامے پر دستخط نہیں کئے جس پہ ہم نے کئے بلکہ وہ خود کو بطور احمدی درج کراتے ہیں۔ یعنی انھوں نے جس بھی مجبوری کی بنا پر، مگر آئین کی پاسداری کی اور خود کو بطور احمدی اقلیت رجسٹر کرایا۔ اب وہ دل میں اس کو برا سمجھیں، خود کو مسلمان سمجھیں یا اپنی مذہبی رہنمائی کے لئے بجانب لندن دیکھیں؛ وہ اور کچھ بھی ہوں آئین کے باغی نہیں رہے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG