رسائی کے لنکس

logo-print

بے ہوش روسی اپوزیشن رہنما الیکسی نولنی علاج کے لیے جرمنی منتقل


جرمنی کی پولیس اس اسپتال کے باہر تعینات ہے جہاں الیکسی نولنی کو منتقل کیا گیا ہے۔

روس کے حزبِ اختلاف کی رہنما الیکسی نولنی کو بے ہوشی کی حالت میں یورپی ملک جرمنی کے شہر برلن منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جائے گی۔

الیکسی نولنی کے خاندان کو شبہ ہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں انہیں سائبیریا میں دانستہ زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔​ جس کے بعد ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

الیکسی نولنی کے روس میں علاج سے متعلق ان کے خاندان کو خدشات لاحق تھے جس کے باعث انہیں جرمنی منتقل کیا گیا ہے۔

روس کے شہر اومسک کے اسپتال میں زیرِ علاج الیکسی نولنی کے معالج نے جمعے کو کہا تھا کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ انہیں مریض کے کسی دوسرے اسپتال میں منتقل کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ منتقلی کی درخواست چوںکہ الیکسی نولنی کے خاندان والوں نے کی ہے۔ اس لیے مریض کی منتقلی کی تمام ذمہ داری بھی ان کے خاندان کی ہے۔

الیکسی نولنی کی جرمنی کے اسپتال منقلی کا معاملہ ایک دن تک الجھا رہا۔ کیوں کہ مقامی ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ مریض کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انہیں سفر کی اجازت دی جائے۔

مقامی ڈاکٹروں کے انکار پر شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا اور الیکسی نولنی کی اہلیہ نے صدر پوٹن سے مداخلت کی اپیل کی۔

ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ منتقلی میں التوا سے مریض کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یہ معلوم کرنا مشکل ہو جائے گا کہ نولنی کے اچانک بیمار ہونے کی وجہ کیا تھی۔

جرمنی کا ایک چارٹرڈ طیارہ انہیں لینے کے لیے جمعے کی صبح اومسک پہنچا تھا۔ جرمنی میں انسانی حقوق کے ایک ادارے نے یہ طیارہ چارٹر کر کے اومسک بھیجا تھا۔ طیارے میں سوار ڈاکٹروں نے نولنی کا معائنہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہ سفر کرنے کے قابل ہیں۔

روسی ڈاکٹروں نے ابتدائی تشخیص کی رپورٹ میں لکھا تھا کہ الیکسی نولنی کا ہاضمے کا نظام متاثر ہوا ہے اور ان کا بلڈ شوگر لیول اچانک کم ہو گیا تھا جس کی وجہ وہ نیم بے ہوشی میں چلے گئے تھے۔

نولنی کی ترجمان کیرا یارمش نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں اس وقت زہر دیا گیا جب انہوں نے ایئر پورٹ کے کیفے سے چائے پی تھی۔

ماسکو میں قائم امریکی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ زہر دیے جانے کے بعد الیکسی نولنی کا کومے میں جانا ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے بھی الیکسی نولنی کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکومت مخالف روسی لیڈر کی اچانک علالت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

الیکسی نولنی روس کے صدر ولادی میر پوٹن پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پوٹن حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی بنا پر متعدد بار حراست میں لیا جا چکا ہے۔ جب کہ وہ جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے۔

اس سے قبل روسی حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ حکومت ان کی منتقلی کے لیے سہولت مہیا کرے گی۔ جب کہ حکومت ان کی جلد صحت یابی کی متمنی ہے۔

دیمتری پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس معاملے کی پوری تحقیقات کرے گی۔

الیکسی ناولنی حکومت کی مخالفت میں خاصے سرگرم رہے ہیں۔ ان کا اپنا ایک یوٹیوب چینل بھی ہے۔

روس میں 2018 کے صدارتی انتخابات میں الیکسی نولنی نے صدر پیوٹن کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے سیاسی مہم چلائی تھی۔ لیکن بعد ازاں ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کر کے انہیں الیکشن سے باہر کر دیا گیا تھا۔

الیکسی نولنی کے حامیوں اور انسانی حقوق کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ الزامات انہیں الیکشن سے باہر رکھنے کے لیے عائد کیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG