رسائی کے لنکس

سزا کے خلاف اجمل قصاب کی درخواست کی سماعت


سزا کے خلاف اجمل قصاب کی درخواست کی سماعت
سزا کے خلاف اجمل قصاب کی درخواست کی سماعت

ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں میں مجرم قرار دیے گئے اور پھانسی کی سزا کے منتظر دہشت گرد اجمل قصاب کی درخواست پر مہر توثیق ثبت کرنے کے لیے پیر کے روز غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے درمیان ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت شروع ہوگئی۔ یہ کارروائی یومیہ سماعت کی بنیاد پر جاری رہے گی۔

یہ سماعت جسٹس رنجنا ڈیسائی اور جسٹس آر بی مہرےپرمشتمل بنچ کررہاہے۔ اجمل قصاب کو عدالت میں نہیں لایا گیا بلکہ اسے سینٹرل جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ جہاں وہ زبردست حفاظتی انتظامات کے تحت بم اور بلٹ پروف سیل میں بند ہے۔

قانونی ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سزائے موت کی توثیق پر جرع ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہورہی ہے۔

صبح گیارہ بجے جب عدالت میں اسے بڑی سکرین پر دکھایا گیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے عدالتی کارروائی اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ مسکراتا اور جمائیاں لیتا رہا۔ اور مختلف قسم کی حرکتیں بھی کرتا رہا۔

سماعت کے دوران اس نے واش روم جانا چاہا۔ جیل کے سٹاف نے اس سے عدالت کو باخبر کیا اور ججوں نے اسے اس کی اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران وکیلوں، صحافیوں اور عدالتی ملازمین کو کورٹ نمبر 49 میں جہاں یہ سماعت چل رہی ہے، نہیں جانے دیا گیا۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG