رسائی کے لنکس

logo-print

شامی باغیوں کی فوجی حمایت کی جاسکتی ہے: عرب لیگ


اجلاس نے سارے رکن ممالک کے اس حق کو تسلیم کیا کہ اگر وہ چاہیں تو شام کے عوام اور 'فری سیریئن آرمی' کے احساسات کا خیال کرتے ہوئے ذاتی دفاع کے لیے ہر قسم کی امداد فراہم کر سکتے ہیں، جس میں فوجی حمایت شامل

بدھ کو عرب لیگ کے وزرا کی طرف سے جاری ہونے والےحتمی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر عرب ممالک چاہیں تو وہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والےباغیوں کی فورسز کو فوجی مدد فراہم کرنے کی پیش کش کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل عرب لیگ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ شام کے مخالفین اور باغیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور سفارتی ذرائع سے حمایت کی جانی چاہیئے۔

یہ خبر رائٹرز خبر رساں ادارے نے قاہرہ سے ایک رپورٹ میں دی ہے۔

تاہم، قاہرہ میں ہونے والے وزرا کے اس اجلاس کے بعد جاری کیے گئے آخری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس نے سارے رکن ممالک کے اس حق کو تسلیم کیا کہ اگر وہ چاہیں تو شام کے عوام اور 'فری سیریئن آرمی' کی امنگوں کا خیال کرتے ہوئے ذاتی دفاع کی غرض سےہر قسم کی امداد فراہم کر سکتے ہیں، جس میں فوجی حمایت بھی شامل ہے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل العربی نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ وزرا نے عرب لیگ میں شام کی نشست کو پُر پرنے کے لیے مخالفین پر مشتمل'سیرئین نیشنل کولیشن' کو مدعو کیا تھا، جو کہ اسد مخالف سیاسی اور باغی گروہوں کا ایک وسیع تر اتحاد ہے۔

اس سے قبل تنظیم کا 2011ء میں دمشق میں اجلاس منعقد ہوا تھا جس کے بعد شام کی رکنیت معطل کردی گئی تھی۔

بیان میں مخالفین کے اتحاد سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ 26اور 27مارچ کو دوحہ میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے نمائندے کا انتخاب کرے۔

قطر عرب لیگ کے اجلاسوں میں شام کے خلاف محاذ کھڑا کرنے پر زور دیتا رہا ہے، جس کی لبنان، عراق اور الجیریا مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اِن تینوں ممالک نے جلاس کے بعد جاری ہونے والے حتمی دستاویز میں شام کے بارے میں مندرجات کی توثیق سے انکار کیا۔
XS
SM
MD
LG