رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ: جنگجووں کا ہوٹل پر حملہ، 13 افراد ہلاک


عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح ہونے والے حملے کے دوران ہوٹل کی عمارت کئی گھنٹوں تک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجتی رہی۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے ایک مرکزی ہوٹل پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم 'الشباب' نے قبول کرلی ہے جس میں ہلاک ہونے والوں میں ہوٹل کے مالک کے علاوہ ایک سابق فوجی کمانڈر، دو ارکانِ پارلیمان اور ایک صحافی بھی شامل ہیں۔

صومالیہ کے وزیر برائے سلامتی عبدالرزاق عمر محمد نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے چھ تھی جنہوں نے پہلے ہوٹل کے دروازے پر یکے بعد دیگرے دو کار بم دھماکے کیے۔

وزیر نے بتایا کہ کئی گھنٹوں کے مقابلے کے بعد سکیورٹی فورسز نے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے اور ہوٹل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والا 'صحافی ہوٹل' صومالیہ کی اشرافیہ میں خاصا مقبول تھا جہاں حکومت کے اعلیٰ حکام، ارکانِ پارلیمان اور کاروباری شخصیات کا آنا جانا رہتا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح ہونے والے حملے کے دوران ہوٹل کی عمارت کئی گھنٹوں تک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونجتی رہی۔

جائے واقعہ پر پہنچنے والے پولیس افسران نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے وقت ہوٹل میں عملے کے افراد کے علاوہ کئی اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی موجود تھیں جنہیں ہوٹل کی عقبی دیوار کے ساتھ سیڑھی لگا کر باہر نکالا گیا۔

حکام کے مطابق ہوٹل کو شدت پسندوں سے کلیئر کرانے میں پولیس کو صومالیہ میں تعینات افریقی یونین کے فوجی دستوں اور صومالی فوج کی مدد بھی حاصل رہی۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران موغادیشو کا یہ دوسرا ہوٹل ہے جو الشباب کے جنگجووں کے حملے کا نشانہ بنا ہے۔ شدت پسند اس کے علاوہ افریقی یونین کے امن فوجی دستوں کے تین مراکز اور صدارتی محل پر بھی حملہ کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG