رسائی کے لنکس

علی امین گنڈا پور کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے 'مثبت' ملاقات


وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پہلی ملاقات مثبت رہی: وزیرِ اعلٰی علی امین گنڈا پور

صوبے کے مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کی مشترکہ کمیٹی بنے گی: احسن اقبال

خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلٰی علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی ہے جسے علی امین گنڈا پور نے مثبت قرار دیا ہے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ اب چوں کہ حکومتیں بن چکی ہیں تو مسائل پر بات ہو گی۔

واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے جارحانہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ اُن کا شمار پی ٹی آئی کے جارح مزاج رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ پشاور کے دوران اُن کا استقبال نہ کرنے کے سوال پر علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وہ پشاور میں موجود نہیں تھے۔ خیبرپختونخوا کے لوگ مہمان نواز ہیں اور یہاں آنے والے ہر شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے واجبات جلد ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلٰی کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی ہے اور وزیرِ اعلی علی امین گنڈاپور نے بہت بہتر انداز میں صوبے کے مسائل اور مشکلات کو وزیرِ اعظم کے سامنے رکھا۔

اُن کے بقول شہباز شریف نے بھی نہایت مثبت انداز میں ان مسائل کے حل میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاق اور صوبے کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست ہر کسی کی اپنی ہے مگر ریاست کے لیے سب ایک ہیں اور ریاست کو جن خطرات کا سامنا ہے ان کا سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے مطالبات

چند روز قبل وزیر اعلی نے وفاقی حکومت کو ایک خط کے ذریعے سینئر سول افسر شہاب علی شاہ کو بطور چیف سیکریٹری تعینات کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ شہاب علی شاہ اس وقت بلوچستان میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

سول سروسز قوانین اور روایات کے مطابق صوبوں میں چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کی تعیناتی کے اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہوتے ہیں مگر صوبائی حکومتیں ان عہدوں پر تعیناتی کے لیے تین نام تجویز کر سکتی ہیں۔

وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے بقایاجات

ایک روز قبل وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی زیرِ صدارت وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیرِ اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا تھا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہو گیا ہے مگر اب تک مالی انضمام نہیں ہوا۔ سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا حصہ 19.64 فی صد بنتا ہے جب کہ صوبے کو این ایف سی کا 14.16 فی صد دیا جا رہا ہے۔ صوبے کی موجودہ آبادی کے لحاظ سے این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں۔

پشاور کے سینئر صحافی عرفان خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے وفاق کے ذمے واجب الادا بقایاجات جات میں سر فہرست ای جی این قاضی فارمولے کے تحت بجلی کی رائلٹی ہے۔

اُن کے بقول اسی طرح 2018 کے بعد ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے وفاقی اور دیگر تین صوبائی حکومتوں کی جانب سے ادائیگی بھی معطل ہے۔

عرفان خان کے بقول 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے مطابق خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دے کر اسے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں ایک فی صد سالانہ کی ادائیگی کا فیصلہ ہوا تھا مگر اس مد میں بھی 91 ارب سالانہ کے بجائے صرف تین ارب روپے ادا کیے گئے ہیں۔

فورم

XS
SM
MD
LG