رسائی کے لنکس

logo-print

علی زیدی کے گھر 'لفافہ' کون دے گیا؟


فائل فوٹو

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں عزیر بلوچ سمیت پانچ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس کوئی ان کے گھر پر لفافے میں دے گیا تھا۔

ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک جانب جہاں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہیں کئی سوشل میڈیا صارفین طنز و مزاح میں بھی مصروف ہیں۔

پاکستان کے نجی نشریاتی ادارے 'اے آر وائی نیوز' کے پروگرام 'الیونتھ آور' میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو میں وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ جنوری 2017 میں اپنے اہل خانہ کو بیرونِ ملک چھوڑ کر آیا تو گھر پہنچنے پر چوکیدار نے ایک لفافہ پکڑا دیا۔

اس موقع پر میزبان وسیم بادامی نے سوال کیا کہ چوکیدار نے لفافہ تھما دیا؟

علی زیدی نے کہا کہ میں نے وہ لفافہ لے کر رکھ دیا۔ رات کا وقت تھا میں سو گیا۔ صبح اٹھا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

اس موقع پر میزبان نے استفسار کیا کہ خاکی رنگ کا لفافہ ہو گا؟

علی زیدی نے مزید بتایا کہ اس لفافے میں پانچ جے آئی ٹیز تھیں۔ ان میں تین جے آئی ٹی رپورٹس عزیر بلوچ جب کہ دو نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس تھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پر 'بیسٹ آف لک' (یعنی کامیاب رہو) تحریر تھا۔

وسیم بادامی نے سوال کیا کہ اس پر بھیجنے والے کا نام وغیرہ تحریر نہیں تھا جس پر علی زیدی نے کہا کہ نہیں صرف یہی نوٹ لکھا تھا۔

اس حوالے سے انٹرویو کرنے والے صحافی وسیم بادامی نے بھی ٹوئٹ کیا کہ آپ کو جے آئی ٹی رپورٹ کہاں سے ملی؟ علی زیدی سے ایک معصومانہ سا سوال۔

سینئر صحافی حامد میر نے بھی اس حوالے سے ٹوئٹ کیا کہ نامعلوم افراد نے کچھ مبینہ جے آئی ٹی رپورٹس علی زیدی کو بھیج دیں اور انہوں نے انہیں بے نقاب کر دیا۔

حامد میر نے واضح نہیں کیا کہ بے نقاب ہونے والے کون ہیں۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے بھی علی زیدی کے حق میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ علی زیدی کی طرف سے جے آئی ٹی جاری کیا جانا انتہائی سنگین الزامات کو جنم دیتا ہے۔ اگر حتمی طور پر علی زیدی کا دعویٰ درست ہوا تو یہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ، چیف سیکریٹری اورکابینہ کے اراکین کے خلاف سرکاری ریکارڈ میں ردو بدل اور دیگر سنگین فوجداری مقدمات کا پیش خیمہ ہو گا۔

خیال رہے کہ علی زیدی جے آئی ٹی رپورٹس پر سوال اٹھایا تھا کہ اس میں جرائم کا ذکر تو ہے کہ کیسے ہوئے لیکن کس کے کہنے پر ہوئے اس کا ذکر شامل نہیں ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے اس انٹرویو پر ٹوئٹ کیا کہ خود ہی سنیے اور سر دھنیے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف رب نواز بلوچ نے ایک ٹوئٹ کیا جس میں علی زیدی کی ایک پرانی ویڈیو تھی جس میں ایک عام شہری پیپلز پارٹی اور سعید غنی کی تعریف کر رہا ہے جب کہ اس شہری کو علی زیدی نے ہی مجمعے سے آگے بلایا تھا تاکہ وہ میڈیا کے سامنے بات کرے۔

رب نواز نے ٹوئٹ میں لکھا کہ علی زیدی نے کہا کہ میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا جس میں ایک یو ایس بی تھی جس میں ایک ویڈیو کلپ تھا۔

اس طرح پیپلز پارٹی کی ایک اور حامی سوشل میڈیا صارف بینظیر نور نے لکھا کہ علی زیدی کبھی نہیں بتائیں گے کہ یہ لفافہ کہاں سے آیا۔

دوسری جانب علی زیدی نے بھی اداکار علی گل پیر کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے مزاحیہ قرار دیا۔

اس ویڈیو میں علی گل پیر سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ کی آڈیو پر اداکاری کر رہے ہیں۔ قائم علی شاہ نے اس آڈیو میں کہا ہے کہ وہ کبھی عزیر بلوچ سے نہیں ملے تاہم ان کی ایسی ویڈیو موجود ہے جس میں قائم علی شاہ اور عزیر بلوچ دونوں نظر آ رہے ہیں۔

ڈان کے سابق ایڈیٹر اور سینئر صحافی عباس ناصر نے بھی علی زیدی کو گھر پر لفافے میں جے آئی ٹی رپورٹس موصول ہونے پر ٹوئٹ میں طنزاً کہا کہ 'خاکی' لفافے میں انہیں یہ رپورٹس ملیں۔

فیس بک پر ایک صارف ندیم حسین نے لکھا کہ سات سال میں تبدیلی پہنچی لفافے تک۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف نے انتخابات میں تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا۔

انہوں نے وفاقی وزیر کے بیان پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی علی زیدی کے گھر سیاسی زکوٰة کا لفافہ دے گیا۔

ارتضیٰ بلوچ نامی صارف نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی جس میں کئی بھارتی فلموں اور سوشل میڈیا پر زیر گردش کلپس لگائی گئی تھیں۔ علی زیدی کے ہر جملے کے بعد کوئی نہ کوئی کلپ ویڈیو میں شامل کی گئی۔

ٹوئٹر پر پیپلز پارٹی کے حامی ایک صارف مسرور راجپر نے وفاقی وزیر کو مشورہ دیا کہ اپنے گھر کی کنڈی لازمی لگائیں ورنہ ہر کوئی لفافہ دے جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حامی سوشل میڈیا صارف حسنہ ندیم بٹ نے بھی علی زیدی کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ میزبان کو کچھ نکات پڑھنے اور مختلف صفحات کھولنے کا کہہ رہے ہیں۔

حسنہ ندیم کا کہنا تھا کہ پروگرام کے اس حصے سے مجھے اپنے اسکول کے دن یاد آ گئے۔

انٹرویو میں اساتذہ کی جانب سے بچوں کو درسی کتب کھولنے کی ہدایت کے انداز میں علی زیدی کی وسیم بادامی کو ہدایت پر ان کا کہنا تھا کہ صفحہ نمبر 15 کھولیں۔

ایک اور صارف محمد طارق نے ٹوئٹ کیا کہ یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ لفافے میں تو کچھ اور ہوا کرتا تھا اور لفافہ پہلے کسی اور بات کے لیے مشہور تھا۔ اب جے آئی ٹی رپورٹس بھی لفافوں میں ملنے لگ گئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نیا پاکستان ہے۔

کچھ صارفین نے وسیم بادامی کے معصومانہ سوال اور پھر معصومانہ جواب کا بھی ذکر کیا۔

علی زیدی کی جانب سے سندھ کے سابق وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا کے ذکر پر ساجد ثنا نامی صارف نے کہا کہ علی زیدی کہتے ہیں کہ ذوالفقار ان کے ہیرو ہیں لیکن یہ تو وہی شخصیت ہیں جنہوں نے عزیر بلوچ کو گینگسٹر بنایا تھا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بھارتی فلم 'تھری ایڈیٹس' کا ایک کلپ بھی شامل کیا۔

ایک اور صارف امداد سومرو نے لکھا کہ علی زیدی واقعی عمران خان کے سچے پیروکار ہیں۔ عمران خان نے سنی سنائی باتوں پر 35 پنکچرز کا بکھیڑا کھڑا کیا تھا۔ پھر کہا مجھے یاد نہیں کہ کس نے 35 پنکچرز کا بتایا تھا۔

خیال رہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کا موقف تھا کہ 35 حلقوں میں دھاندلی کی گئی ہے تاہم بعد ازاں عدالتی کمیشن میں الزامات درست ثابت نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ عمران خان نے بھی ایک انٹرویو میں 35 پنکچر کے الزام کو سیاسی بیان قرار دیا تھا۔

ثمرینہ جان بلوچ نامی صارف نے ٹوئٹ کیا کہ جس شخص نے عزیر بلوچ کو (جرائم پیشہ) بنایا وہ اب تحریک انصاف کے حامیوں کے لیے ہیرو ہے۔

ہالار جمالی نامی صارف نے لکھا کہ وہ لوگ جو بلدیہ فیکٹری سمیت لاتعداد واقعات میں ملوث ہیں اور جن کو عمران خان دہشت گرد قرار دیتے تھے اب وہ ان کی ہی کابینہ کے رکن ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت بغیر ثبوتوں کے الزامات لگانے پر ذرا بھی شرمندہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے بھی ایک اور ٹوئٹ میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تھوڑی سی تحقیق کی جائے تو کئی شواہد مل جائیں گے۔ نبیل گبول نے 2016 میں کہا تھا کہ سندھ پولیس نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد تین مختلف مشترکہ تحقیقاتی (جے آئی ٹی) رپورٹس کا اجرا کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کی گئی جے آئی ٹی رپورٹس میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عزیر بلوچ، فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی رپورٹس شامل ہیں۔

ان تینوں رپورٹس کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی وزیر برائے بحری امور تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے درخواست دائر کی تھی کہ انہیں عام کیا جائے۔

عدالت نے بھی انہیں عام کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان رپورٹس میں ایسا کچھ نہیں جس سے ملکی سلامتی کے مسائل پیدا ہوں۔ اس لیے یہ رپورٹس عام کی جائیں تاکہ لوگوں کو ان کے جاننے کا حق دیا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG