رسائی کے لنکس

logo-print

سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس جاری، فرق کیا پڑے گا؟


فائل فوٹو

سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بالآخر پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد تین مختلف مشترکہ تحقیقاتی (جے آئی ٹی) رپورٹس کا اجرا کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کی گئی جے آئی ٹی رپورٹس میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عزیر بلوچ، فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی رپورٹس شامل ہیں۔

ان تینوں رپورٹس کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی وزیر برائے سمندری امور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے درخواست دائر کی تھی کہ انہیں عام کیا جائے۔

عدالت نے بھی انہیں عام کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان رپورٹس میں ایسا کچھ نہیں جس سے ملکی سلامتی کے مسائل پیدا ہوں۔ اس لیے یہ رپورٹس عام کی جائیں تاکہ لوگوں کو ان کے جاننے کا حق دیا جا سکے۔

عزیر بلوچ کے خلاف جے آئی ٹی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

سندھ حکومت نے فروری 2016 میں لیاری گینگ وار کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد اس سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جے آئی ٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عزیر بلوچ نے سب سے پہلے اپنے والد فیض بلوچ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے رحمٰن ڈکیت کے گروہ میں 2003 میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مختلف مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث وہ پہلے بھی 2006 سے 2008 تک جیل میں رہ چکا ہے۔ 2008 میں رحمٰن ڈکیٹ کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد اس نے پیپلز امن کمیٹی بنائی جب کہ اس دوران اس نے اپنے مخالفین ارشد پپو، غفار ذکری اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ٹارگٹ کلرز کے خلاف اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

کراچی: فائرنگ سے سات پولیس اہلکار ہلاک
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:54 0:00

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2013 میں وہ ایران کے راستے دبئی فرار ہو گیا تھا اور پھر 2016 میں اسے بلوچستان سے دوبارہ کراچی آتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

198 افراد کے قتل کا اعتراف

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزم نے 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے جس میں سیاسی اور لسانی بنیادوں کے علاوہ گینگ وار کے دوران ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔ ان میں استاد تاجو گروپ، احمد علی مگسی گروپ، وسیع اللہ لاکھو گروپ کے 15، 15 کارندوں کے علاوہ امین بلیدی، شیراز کامریڈ، جبار لنگڑا، جبار جینگو، سہیل داد ملیر گروپ سمیت 150 سے زائد افراد کا قتل شامل ہے۔

اسی طرح شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں اکتوبر 2010 میں 11 افراد کا قتل، نائب ناظم لیاری ٹاؤن ملک محمد خان، مختلف منشیات فروش گروپس اور ایم کیو ایم سے وابستہ کئی افراد کے قتل کا بھی عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کے سامنے اعتراف کیا ہے۔

عزیر بلوچ نے اپنے سب سے بڑے مخالف ارشد پپو کو ساتھیوں سمیت مارچ 2013 میں اغوا کیا جب کہ ارشد پپو کو بہیمانہ انداز میں قتل کر کے لاش کو جلا کر گٹر میں بہا دیا گیا تھا۔

اسی طرح رینجرز کے دو اور پولیس کے کئی اہلکاروں کے قتل کا بھی عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اپنے مخالفین کے خلاف مسلح مقابلوں اور پولیس تھانوں پر حملوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ تاہم 2013 کے بعد کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد اس کے کئی ساتھی ایران، اومان، جنوبی افریقہ یا متحدہ عرب امارات فرار ہو گئے۔

رپورٹ میں ان 54 مقدمات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں عزیر بلوچ خود ملوث ہے جب کہ 16 ایسے مقدمات ہیں جو اس کے گروپ کے خلاف مختلف تھانوں میں درج ہیں۔ ان مقدمات میں قتل، اقدامِ قتل، پولیس مقابلہ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے، ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔

عزیر بلوچ نے سندھ پولیس کے افسران اور ان پر اپنے اثر و رسوخ کے حوالے سے کہا ہے کہ کم از کم آٹھ پولیس افسران کو ان کے تجویز کردہ علاقوں میں تعینات کیا گیا۔

اسی طرح ملزم نے کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی علاقوں میں آنے جانے والے تانبے، پلاسٹک، کھانے پینے کی اشیا سے بھرے ٹرکوں کو لوٹ کر انہیں فروخت کرنے اور فشریز کے کاروبار سمیت کئی معاملات میں لاکھوں روپے بھتہ وصول کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو ہنڈی کے کاروبار کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ دبئی کے سٹی بینک، المشرق بینک، نیشنل بینک کی مختلف برانچز میں ان کی 10 لاکھ درہم سے زائد کی رقم موجود ہے۔

ان کے بقول دبئی ہی میں ایک لینڈ کروزر، دو کیمری کار، مسقط میں 600 گز کے دو اور شارجہ میں ایک گھر جب کہ دبئی میں ایک شاندار دفتر بھی ان کی ملکیت ہے جس کی مالیت 5 لاکھ درہم ہے۔

اسی طرح پاکستان میں 15 لاکھ روپے بینک میں، 25 لاکھ روپے مالیت کی ایک ویگو گاڑی، سینگولین میں ڈھائی کروڑ کا مکان، 4 کروڑ روپے کا ایک بھینسوں کا فارم ہاؤس، ہاؤسنگ اسکیم میں 8 کروڑ روپے کی جائیداد، ایران کے شہر چابہار میں ڈیڑھ کروڑ روپے کا گھر اور دیگر املاک عزیر بلوچ اور ان کی بیوی کے نام ہیں۔

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو جہاں غیر قانونی اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی خریداری سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا وہیں یہ بھی بتایا کہ ایرانی خفیہ اداروں کے بعض افسران نے اس سے ملاقات کی تھی۔ 2014 میں ہونے والی ملاقات میں عزیر بلوچ سے پاکستان کی فوج کے کچھ افسران اور کراچی کے عمومی سیکیورٹی ماحول سے متعلق معلومات حاصل کی گئی تھیں۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے عزیر بلوچ سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی انکروچمنٹ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج شروع کرنے مقدمات قائم کرنے کے ساتھ تفتیش شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔

جے آئی ٹی نے ملزم کی غداری زمرے میں آنے والی سرگرمیوں کے پیشِ نظر آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت مقدمہ قائم کرنے کی بھی سفارش کی تھی جس کے تحت مقدمہ چلائے جانے کے بعد عزیر بلوچ کو 12 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ پر اس وقت ضلع جنوبی میں تعینات سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) فدا حسین جانوری کی سربراہی میں قائم ٹیم کے چھ دیگر ارکان کے بھی دستخط موجود ہیں جن میں پولیس کی اسپیشل برانچ، سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ، انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی، ایم آئی اور رینجرز کے افسران کے دستخط شامل ہیں۔

عُزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ تو جاری ہو گئی ہے لیکن اس میں ایک کمی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جو قتل یا جرائم کیے گئے، یہ کس کے کہنے پر ہوئے اور کس کو اس کا فائدہ پہنچا۔

عزیر بلوچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کیا وہ کوئی پاگل آدمی تھا جو اس نے کسی کو بھی قتل کر دیا یا اپنا گینگ بنایا۔ یا حکومت کی مدد کے بغیر اس قدر بڑے بڑے کام ہو گئے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے صحافیوں کو مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبروں کی پرانی ویڈیوز بھی دکھائیں جس میں عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کے ہمراہ نظر آ رہے ہیں۔

علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے صفحہ سات پر لکھا ہوا ہے کہ عزیر بلوچ نے بیان حلفی میں کہا کہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ان سے اپنے سر پر مقرر رقم ختم کرنے کا کہا۔ فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر یہ ہیڈ منی ختم کر دی گئی۔

علی زیدی نے صحافیوں کو سندھ حکومت کا ایک اعلامیہ بھی دکھایا جس میں عزیر بلوچ کے سر پر مقرر کی گئی رقم ختم کرنے کا ذکر تھا۔

سانحہ بلدیہ کیس کی جے آئی ٹی میں کیا انکشافات ہوئے ہیں؟

کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں 11 ستمبر 2012 کو گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ سے 259 افراد جل کر ہلاک جب کہ 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس کیس میں قائم کی جانے والی جے آئی ٹی واقعےکے تقریباََ ڈھائی سال بعد 2015 میں قائم کی گئی۔

ٹیم نے 43 سیشنز، میں چھ بار جائے وقوع کا دورہ اور 39 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرکے حتمی رپورٹ تیار کی۔

اس رپورٹ میں کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس، کرائم سین انسپیکشن رپورٹ، الیکٹرک انسپکٹر، چیف فائر آفیسر، ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ، ویڈیو فرانزک رپورٹ سمیت دیگر رپورٹس اور تجزیات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

کراچی کی فیکٹری میں آتشزدگی - Video
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:28 0:00

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ کی اصل وجہ حادثہ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینا تھا جس پر فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔

غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما حماد صدیقی نے فیکٹری سے 20 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا تھا۔ فیکٹری مالکان کی جانب سے انکار پر ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج رحمٰن بھولا نے 11 ستمبر 2012 کو آگ لگنے والا کیمیکل پھینکا جس سے وہاں آتش زدگی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فیکٹری میں ہونے والا سانحہ آتش زنی کا واقعہ تھا جب کہ شواہد بتاتے ہیں کہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے کوئی آثار نہیں ملے۔

کمپنی میں کام کرنے والے ایک شخص نے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس نے زبیر عُرف چریا نامی شخص کو اپنے پانچ ساتھیوں سمیت کوئی ایسی چیز پھینکتے ہوئے دیکھا تھا جس سے اگلے پانچ سے دس سیکنڈز میں گودام میں آگ بھڑک اٹھی جب کہ زبیر نے کینٹین کی جانب جانے والے دروازے لاک کر دیے اور آگ بجھانے والوں کو بھی اوپر جہاں لوگ کام کر رہے تھے جانے سے روک رہا تھا۔

جے آئی ٹی کے تمام ارکان نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تکنیکی رپورٹس، شہادتوں اور گواہوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگانے کا عمل حادثہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا دہشت گردی کا منصوبہ تھا جو غالباََ کسی کیمیکل کے استعمال سے ممکن ہوا۔

فیکٹری کے پروڈکشن مینیجر کے بیان کے مطابق ایم کیو ایم کے بلدیہ سیکٹر کا فیکٹری میں اثر و رسوخ کافی زیادہ تھا۔ سیکٹر آفس فیکٹری انتظامیہ سے زکوٰۃ، فطرانہ، پارٹی کے لیے چندے کے علاوہ فیکٹری میں کنٹریکٹ وغیرہ بھی حاصل کرتے تھے۔ فیکٹری میں ملازمتیں دینے اور لوگوں کو نکالنے سے تعلق بھی ایم کیو ایم کا اثر و رسوخ بے حد زیادہ تھا۔

پروڈکشن مینیجر نے اپنے بیان میں جے آئی ٹی کو مزید بتایا تھا کہ سیکٹر انچارج رحمٰن بھولا نے ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی کی جانب سے فیکٹری مالکان سے 25 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا تھا۔

اسی شخص کے بیان کے مطابق فیکٹری مالکان اس پر کافی پریشانی کا شکار تھے اور ایک کروڑ روپے میں معاملات حل کرنے پر راضی تھے لیکن سیکٹر انچارج رحمٰن بھولا اپنا مطالبہ 20 کروڑ روپے سے کسی صورت کم کرنے کو تیار نہیں تھا جب کہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی تھیں۔

پروڈکشن مینیجر نے بتایا کہ وسیم دہلوی نامی شخص جس کے ایم کیو ایم سے گہرے روابط تھے، وہ بھی فیکٹری سے بھتہ اور دیگر چیزیں حاصل کرتا تھا جب کہ رمضان میں زکوٰۃ اور فطرانہ بھی مالکان سے لے کر پروڈکشن مینیجر خود وسیم کے حوالے کرتا رہا۔

پروڈکشن مینیجر نے اپنے بیان میں بتایا کہ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو اطلاع دیے جانے کے باوجود کوئی گاڑی آگ بجھانے نہیں آئی بلکہ اکاؤنٹنٹ عبد المجید کو فائر بریگیڈ اسٹیشن بھیجا گیا تاکہ وہ فائر ٹینڈرز لاسکیں۔ اس دوران آگ پر قابو پانے کے لیے خود ہی کوششیں جاری رکھی گئیں جب کہ فائر بریگیڈ آگ لگنے کے ایک گھنٹے 26 منٹ بعد جائے وقوع پر پہنچی۔

جے آئی ٹی نے فیکٹری مالکان کے بیانات دبئی میں ریکارڈ کیے جنہوں نے اس سے قبل لیے گئے بیانات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رحمٰن بھولا نے 25 کروڑ روپے کے ساتھ فیکٹری میں حصہ داری کا بھی مطالبہ کیا تھا یہ مطالبات پورے کرنا ہمارے لیے ممکن نہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظلوم کے بجائے مجرموں کا کھل کر ساتھ دیا۔ فیکٹری مالکان سے واقعے کے بعد بھی 5 کروڑ 98 لاکھ بھتہ لیا گیا۔

جے آئی ٹی نے پولیس کی جانب سے اس سے قبل درج ہونے والے مقدمے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے باوجود کسی معتبر ادارے سے تحقیقات میں کوئی تعاون حاصل ہی نہ کیا گیا جب کہ جو رپورٹس موجود تھیں انہیں بھی پیشہ وارانہ طور پر ٹھیک طریقے سے نہیں جانچا گیا۔

دوسری جانب فیکٹری مالکان ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان پر ایم کیو ایم کی جانب سے صلح کے لیے بے حد دباؤ تھا۔ اس وقت کے ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم انیس قائم خانی کے قریبی دوست اور حیدر آباد کی بڑی کاروباری شخصیت محمد علی حسن سے مذاکرات کے بعد طے یہ پایا کہ اگر فیکٹری مالکان ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو ڈھائی ڈھائی لاکھ معاوضہ اور زخمیوں کو ایک ایک لاکھ معاوضہ دیں تو متحدہ قومی موومنٹ سے صلح ہو سکتی ہے۔

ان کے بقول یہ رقم ایم کیو ایم پارٹی پلیٹ فارم سے متاثرین کو ادا کرنا چاہتی تھی اور اس مقصد کے لیے فیکٹری مالکان نے 5 کروڑ 98 لاکھ روپے کی رقم ایک اکاؤنٹ میں جمع بھی کروا دی تھی۔

محمد علی حسن نے فیکٹری مالکان کو بتایا کہ یہ رقم انیس قائم خانی کو بھیج دی گئی ہے۔ اس رقم میں سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے کی رقم انیس قائم خانی کے لے پالک بیٹے عبد الستار خان کی جانب سے مینٹین کیے گئے ایک بینک اکاؤنٹ میں ڈالی گئی۔ جس سے ایک پلاٹ کی خریداری کے لیے پیشگی رقم ادا کی گئی۔

جے آئی ٹی کے مطابق بھائیلا برادران سے ہتھیائی گئی یہ رقم پراپرٹی کی شکل میں ڈاکٹر عبد الستار اور اس کے دیگر کاروباری شراکت داروں کے پاس موجود ہے۔

جے آئی ٹی نے خلاصے میں کہا ہے کہ حقیقت میں یہ ایک دہشت گردی کی واردات تھی جو 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ داری نہ ملنے پر رحمٰن بھولا اور حماد صدیقی نے کی۔

اس واقعے کی تحقیقات سمجھوتے اور بوسیدہ نظام پر مبنی پولیسنگ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ جس میں مظلوم اور متاثرین کے بجائے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا تاکہ اس سے فوائد اور مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

اس واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کے بجائے محض ایک قتل کی واردات کو قرار دے دیا گیا۔

نثار مورائی کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ

سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کی سربراہی میں بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی 2016 میں تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فِشر مین کو آپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نثار مورائی نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے کئی مجرمانہ سرگرمیاں کیں جب کہ ملزم کے سابق وزیرِ داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سمیت بعض سیاسی شخصیات سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔

جے آئی ٹی کو بیان میں ڈاکٹر نثار مورائی نے بتایا تھا کہ 1989 میں انہیں محکمہ صحت میں ڈاکٹر تعینات کیا گیا تھا اور وہ مختلف جگہوں پر تعینات رہے۔ 2009 میں ان کی تعیناتی کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں ہوئی لیکن سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہوں نے ڈیوٹی جوائن تو نہ کی تاہم انہیں مستقل طور پر تنخواہ مل رہی ہے۔

نثار مورائی کے بارے میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انہیں اسلحہ رکھنے کا بے حد شوق ہے جس کی وجہ سے ان کے پاس آٹھ کلاشنکوف، رائفل، شارٹ گنز، مختلف قسم کی پستولیں موجود ہیں۔

اسی طرح ملزم کی کراچی اور حیدر آباد کے پوش علاقوں ڈیفنس، کریک وسٹا، جی او کے کالونی وغیرہ میں 35 کروڑ کے لگ بھگ جائیداد کے علاوہ کئی کروڑ روپے کی گاڑیاں ہیں۔

ڈاکٹر نثار مورائی نے زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری، کرپشن، 70 سے 80 گھوسٹ ملازمین کی تعیناتی کے علاوہ کراچی سے شائع ہونے والے اخبار 'روزنامہ جانباز' کے ایک رپورٹر غلام حیدر کو فشریز کی کرپشن چھپانے کے لیے ماہانہ بھتہ بھی دینے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں یہ بھی بتایا ہے کہ سابق وزیرِ داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ہمراہ وہ کئی بار عزیر بلوچ سے ملاقات کر چکے ہیں۔

ان جے آئی ٹیز کو عام کیے جانے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس کے خیال میں ان رپورٹس کے اجرا سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کچھ نیا نہیں نکلے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ کیس میں اب کیس آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس کی بنیاد ہی وہ جے آئی ٹی رپورٹ تھی جو اب سرکاری طور پر منظرِ عام پر لائی گئی ہے۔ اسی طرح عزیر بلوچ اور ڈاکٹر نثار مورائی کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ان رپورٹس سے ان نکات پر پوائنٹ اسکورنگ اور اسمبلی میں شور بھی مچائے گی جس کے تانے بانے پیپلز پارٹی سے ملتے ہیں۔

ان کے خیال میں قانونی طور پر ان جے آئی ٹیز کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اس لیے جے آئی ٹیز کو پبلک کرنے سے وقتی طور پر پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان یا کم از کم دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے مگر اس سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا کیوں کہ پیپلز پارٹی کا موقف یہی ہوگا کہ ان سے جڑے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

مظہر عباس کے بقول ان جے آئی ٹیز پر کسی کو سزا ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔

ان کے خیال میں عام حالات میں جے آئی ٹیز نہیں ہونی چاہیے بلکہ جرم ہونے کی صورت میں صاف اور شفاف کریمینل انویسٹی گیشن ہی کی جانی چاہیے اور عدالت میں بھی یہی تفتیش اہمیت کی حامل اور قابل قبول ہوتی ہے کہ انویسٹی گیشن افسر نے کیا تحقیقات کرکے شواہد اکھٹے کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی میں ہم آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر ایجنسیوں کو بھی انگیج کر لیتے ہیں جس سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے یہی کہنا کافی ہو گا کہ کیس کی بہتر تحقیقات ہی بہتر نتائج لا سکتی ہے۔

ڈاکٹر نثار مورائی کے وکیل اور کریمینل لا کے نامور وکیل بیرسٹر خواجہ نوید احمد کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب تفتیشی افسر کے بارے میں یہ شک ہو کہ اس نے اپنے کام سے انصاف کے بجائے مصلحت پسندی اور دباؤ کے تحت تحقیقات کیں۔

ان کے بقول انتظامی احکامات کے تحت قائم کی گئی جے آئی ٹی اور اس کی رپورٹ ان کی نظر میں عدالت میں قابل قبول بھی ہوتی ہے اور اس کی اہمیت بھی ہے۔

ان کے مطابق اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم پہلے سے ذہن بناکر بیٹھی ہوتی ہے کہ کسی مخصوص کیس کو کس طرح دیکھنا ہے اور اسے جاری کرکے کوئی خاص ماحول قائم کرنا مقصد ہوتا ہے جس کے پیچھے مقاصد اور مفادات چھپے ہوتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت میں ملزم کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے بیان اور تفتیش کو ہی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم جے آئی ٹی حتیٰ کہ پولیس (تفتیشی افسر) کو دیے گئے بیان سے بھی مکر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ میں اس وقت گرفتار تھا۔ اس لیے میں نے دباؤ میں آ کر یہ سب کچھ کہا تھا۔ لیکن مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیے گئے بیان سے ملزم مُکر نہیں سکتا کیوں کہ وہ اس بیان سے مکرے گا تو اس کو اس کی بھی سزا ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG