رسائی کے لنکس

logo-print

آزادی مارچ: اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس


جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں — فائل فوٹو

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ختم ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے فیصلوں کا اعلان دھرنے کے مقام پر کیا جائے گا۔

آل پارٹیز کانفرنس میں حزب اختلاف کی مختلف جماعتیں شریک ہوئیں۔

آل پارٹیز کانفرنس میں آزادی مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہونے والی اے پی سی میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اعلٰی قیادت شریک نہیں ہوئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے بہاولپور کے علاقے اوچ شریف میں جلسے سے خطاب کیا جب کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف لاہور میں موجود تھے۔

پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت پارٹی رہنما نیر حسین بخاری اور فرحت اللہ بابر نے کی جب کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار ایاز صادق شریک ہوئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے اے این پی کی نمائندگی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ اے پی سی کے فیصلوں کا باضابطہ اعلان دھرنے کے مقام پر کیا جائے گا۔

نجی نیوز چینل 'جیو' نے رپورٹ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے دھرنا سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کا اجلاس

اس سے پہلے لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن صرف ایسے احتجاج کے حق میں ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کا لائحہ عمل اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر طے کرے گی۔

دھرنے میں شرکت کے حوالے سے فیصلے پر پوچھے گئے سوال پر احسن اقبال بولے کہ مسلم لیگ ن رہبر کمیٹی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔

اتوار کے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم اگلے اقدامات کا فیصلہ بھی تمام اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے کریں گے۔

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو چکی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی پیش کش

دریں اثناء اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سیاسی جماعتوں کو قومی مذاکراے کی دعوت دیتے ہوئے مل جل کر اختلافات دور کرنے پر زور دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پارلیمان قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قومی مکالمے کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی بولے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سمیت معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کے بقول ان سے قبل اعلیٰ عدلیہ اور اپوزیشن رہنماؤں نے بھی پارلیمانی سطح پر ڈائیلاگ کی بات کی۔

آزادی مارچ کے چوتھے روز مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر بار انتخابات میں مداخلت کی جاتی ہے— فائل فوٹو
آزادی مارچ کے چوتھے روز مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر بار انتخابات میں مداخلت کی جاتی ہے— فائل فوٹو

ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن میں مداخلت کی جاتی ہے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے فوج کے کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کے لیے ہماری فوج، جو ہمارے لیے محترم ہے، وہ ہر حال میں اس بات کو طے کرے گی کہ پاکستان کے عام انتخابات سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بے چارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو گئی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 7 نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 54 کے تحت صدر عارف علوی کی طرف سے جمعرات کے روز شام چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG