رسائی کے لنکس

مولانا فضل الرحمٰن کی مفاہمت سے مزاحمت تک کی سیاست

فضل الرحمٰن — فائل فوٹو
فضل الرحمٰن — فائل فوٹو

عام انتخابات 2018 کے بعد سے حزب اختلاف کو متحد کرنے کی کوششوں میں سرگرم مولانا فضل الرحمٰن بالآخر ایک سال کی جدوجہد کے بعد حکومت مخالف 'آزادی مارچ' کی صورت میں اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے 'آزادی مارچ' کی عملی یا اخلاقی حمایت کی ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ 'آزادی مارچ' میں دیگر جماعتوں کی شرکت انتہائی کم رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے بہت سے پہلوؤں کو تاحال دانستہ مبہم رکھا ہے۔ لیکن وزیرِ اعظم عمران خان کے استعفے کے بنیادی مطالبے پر تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

اپوزیشن کے آزادی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کی صورتِ حال
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:31 0:00

مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ شہرِ اقتدار اس وقت کنٹینرز کا شہر دکھائی دے رہا ہے۔

وفاقی وزرا اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے پہلے جمعیت علما اسلام (ف) کا 'آزادی مارچ' روکنے کا بیانیہ اختیار کیا۔ تاہم بعد ازاں مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی اور معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے پر اتفاق ہوا۔

ماضی میں مہم جوئی کے بجائے افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن کے انداز کو اس بار مبصرین جارحانہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ وزیرِ اعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

'آزادی مارچ' کے قافلے خیبر پختوانخوا سے اسلام آباد روانہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:34 0:00

مفاہمت سے مزاحمت کی اس سیاست کے حوالے سے تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ مولانا سمجھتے ہیں کہ اُنہیں دھاندلی کے ذریعے پارلیمانی سیاست سے دور رکھا گیا ہے۔ جبکہ اس کا ذمہ دار وہ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں مولانا کے ساتھ کیوں ؟

آزادی مارچ کی حمایت کی جائے یا نہیں اور حمایت کی صورت میں شرکت کی نوعیت کیا ہوگی یہ معاملہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے کئی دن تک درد سر بنا رہا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے جب اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب 'آزادی مارچ' کا اعلان کیا تو اپوزیشن جماعتوں کا اصرار تھا کہ اس کی تاریخ میں تبدیلی کرتے ہوئے احتجاج کی تاریخ کو آگے لے جایا جائے۔

'آزادی مارچ' کے شرکا گوجر خان میں موجود
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:55 0:00

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے جب مارچ کی تاریخ میں تبدیلی سے انکار کیا تو اپوزیشن قیادت نے مطالبہ کیا کہ دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ رہبر کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ اپوزیشن قیادت کی ملاقاتوں اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ اپوزیشن نے آزادی مارچ کی حمایت تو کر دی۔ لیکن اس میں شرکت کی نوعیت اور طریقہ کار وضع نہ کر سکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے تو یہاں تک کہا کہ وہ مارچ کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن دھرنے میں ساتھ نہیں دیں گے۔

انصار الاسلام کے رضاکار 'آزادی مارچ' میں آگے آگے

<p dir="RTL">جمعیت علماء اسلام کے آئین کی شق نمبر 26 کے مطابق، ہر مسلمان جو نماز اور روزے کا پابند ہو وہ انصار الاسلام کا رکن بن سکتا ہے۔</p>
1/11

جمعیت علماء اسلام کے آئین کی شق نمبر 26 کے مطابق، ہر مسلمان جو نماز اور روزے کا پابند ہو وہ انصار الاسلام کا رکن بن سکتا ہے۔

<p dir="RTL">جمعیت علماء اسلام کے مطابق جے یو آئی (ف) کے آئین میں انصار الاسلام کے نام سے باقاعدہ ایک شعبہ ہے جس کا کام فقط انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں نبھانا ہے۔</p>
2/11

جمعیت علماء اسلام کے مطابق جے یو آئی (ف) کے آئین میں انصار الاسلام کے نام سے باقاعدہ ایک شعبہ ہے جس کا کام فقط انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں نبھانا ہے۔

<p dir="RTL">یہ تنظیم جے یو آئی (ف) کے ماتحت ہے اور اس کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔</p>
3/11

یہ تنظیم جے یو آئی (ف) کے ماتحت ہے اور اس کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

<p dir="RTL">ان کا بنیادی کام جمعیت علماء اسلام کے جلسے جلوسوں اور کانفرنسز میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا ہوتا ہے۔</p>
4/11

ان کا بنیادی کام جمعیت علماء اسلام کے جلسے جلوسوں اور کانفرنسز میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا ہوتا ہے۔

<p dir="RTL">ان رضاکاروں کی وردی کا رنگ خاکی ہوتا ہے جب کہ کالے رنگ کے بند جوتے پہنے ان نوجوانوں کو ایک بیج بھی دیا جاتا ہے جس پر ان کا عہدہ اور حلقہ نمبر درج ہوتا ہے۔</p>
5/11

ان رضاکاروں کی وردی کا رنگ خاکی ہوتا ہے جب کہ کالے رنگ کے بند جوتے پہنے ان نوجوانوں کو ایک بیج بھی دیا جاتا ہے جس پر ان کا عہدہ اور حلقہ نمبر درج ہوتا ہے۔

جے یو آئی کے مطابق انصار الاسلام برسوں پہلے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھنے کے دوران ہی عمل میں آئی تھی۔
6/11 جے یو آئی کے مطابق انصار الاسلام برسوں پہلے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھنے کے دوران ہی عمل میں آئی تھی۔
انصار الاسلام الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم کے طور پر باقاعدہ رجسٹر بھی ہے۔
7/11 انصار الاسلام الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم کے طور پر باقاعدہ رجسٹر بھی ہے۔
<p dir="RTL">وزارت داخلہ نے 24 اکتوبر کو انصار الاسلام پر پابندی عائد کر دی تھی اور صوبوں کو تنظیم کے خلاف نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔</p>
8/11

وزارت داخلہ نے 24 اکتوبر کو انصار الاسلام پر پابندی عائد کر دی تھی اور صوبوں کو تنظیم کے خلاف نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

رضا کاروں نے کنٹینر کے اطراف کی سیکیورٹی بھی سنبھالی ہوئی ہے۔
9/11 رضا کاروں نے کنٹینر کے اطراف کی سیکیورٹی بھی سنبھالی ہوئی ہے۔
بدھ کو آزادی مارچ کے شرکا نے لاہور میٹرو کی سڑک پر آنے کی کوشش کی جنہیں انصار الاسلام کے رضا کاروں نے ہٹا دیا۔
10/11 بدھ کو آزادی مارچ کے شرکا نے لاہور میٹرو کی سڑک پر آنے کی کوشش کی جنہیں انصار الاسلام کے رضا کاروں نے ہٹا دیا۔
انصار الاسلام کے رضا کار لوگوں کو میٹرو روٹ سے ہٹا رہے ہیں۔
11/11 انصار الاسلام کے رضا کار لوگوں کو میٹرو روٹ سے ہٹا رہے ہیں۔
Previous slide
Next slide

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کی اہم جماعتوں کی اعلٰی قیادت جیل میں ہے اور حکومت مسلسل اُنہیں دباؤ میں لا رہی ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف کے پاس احتجاجی سیاست کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

سلیم بخاری کے مطابق اگر اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف مارچ کی حمایت نہیں کرتیں تو موجودہ حالات میں اُنہیں اپنے کارکنوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا تھا اور اسی بنا پر تمام جماعتیں حمایت پر مجبور ہوئیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ مارچ سے دور کیوں؟

کراچی سے 27 اکتوبر کو شروع ہونے والے احتجاجی مارچ سے اب تک صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں خطاب کیا ہے۔ لیکن جے یو آئی کی قیادت کو توقع ہے کہ حزب اختلاف کی دیگر اعلٰی قیادت بھی احتجاج میں شریک ہوگی۔

آزادی مارچ کی اسلام آباد آمد: دارالحکومت میں کیا تیاریاں ہیں؟

جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل عبد الغفور حیدری کہتے ہیں کہ اگر حزب اختلاف کی قیادت مارچ میں شریک نہیں ہوتی تو عوام ان سے جواب طلبی کریں گے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی نسبت اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو اور آفتاب شیر پاؤ کی جماعتیں آزادی مارچ کی زیادہ حامی اور سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔

2018 کے عام انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف) کے 'آزادی مارچ' میں شریک نہیں ہے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے صرف اخلاقی حمایت پر ہی اتفاق کیا گیا ہے۔

جے یو آئی کا آزادی مارچ کراچی سے روانہ

اتوار کو آزادی مارچ کا آغاز کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا۔
1/7 اتوار کو آزادی مارچ کا آغاز کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا۔
مارچ میں شرکت کے لیے جے یو آئی (ف) اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے کارکن قافلوں کی صورت میں سہراب گوٹھ پہنچے۔
2/7 مارچ میں شرکت کے لیے جے یو آئی (ف) اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے کارکن قافلوں کی صورت میں سہراب گوٹھ پہنچے۔
مارچ کے آغاز سے قبل سہراب گوٹھ میں جلسہ بھی ہوا جس سے مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔
3/7 مارچ کے آغاز سے قبل سہراب گوٹھ میں جلسہ بھی ہوا جس سے مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔
جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء پاکستان کے کارکن بھی شریک ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
4/7 جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء پاکستان کے کارکن بھی شریک ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
جلسے کے بعد مارچ کے شرکا براستہ موٹروے حیدرآباد روانہ ہوگئے جہاں سے وہ نیشنل ہائی وے کے ذریعے آج رات سکھر پہنچیں گے۔
5/7 جلسے کے بعد مارچ کے شرکا براستہ موٹروے حیدرآباد روانہ ہوگئے جہاں سے وہ نیشنل ہائی وے کے ذریعے آج رات سکھر پہنچیں گے۔
آزادی مارچ کے لیے جے یو آئی کے کارکنوں نے خصوصی کنٹینر بھی تیار کیا ہے جس کے ذریعے قائدین راستے میں پڑنے والے مختلف شہروں میں مارچ کے شرکا سے خطاب کریں گے۔
6/7 آزادی مارچ کے لیے جے یو آئی کے کارکنوں نے خصوصی کنٹینر بھی تیار کیا ہے جس کے ذریعے قائدین راستے میں پڑنے والے مختلف شہروں میں مارچ کے شرکا سے خطاب کریں گے۔
آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا جہاں جے یو آئی (ف) نے دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
7/7 آزادی مارچ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا جہاں جے یو آئی (ف) نے دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
Previous slide
Next slide

حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی آزادی مارچ کے شرکا کے لیے کھانا بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا پارلیمٹ کے اندر کردار ہے۔ اس لیے وہ حکومت مخالف مارچ کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن اس حد تک نہیں جائیں گے کہ جمہوری نظام کے عدم استحکام کا خدشہ ہو۔

سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں مارچ سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ البتہ ان کی شرکت نمائشی رہی۔

صرف تقریر کرنے نہیں جا رہے، عزائم اس سے زیادہ ہیں: مولانا فضل الرحمٰن
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:37 0:00

ان کا ماننا ہے کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد اپوزیشن قیادت اس سے خطاب کرے گی۔ جس کے بعد اگر دھرنے کا فیصلہ ہوا تو حکومت اپنی برداشت کھو سکتی ہے۔

مارچ کے مقاصد اور اہداف!

ماضی میں سیاسی اتحادیوں اور تحریکوں کے بانی مانے جانے والے نواب زادہ نصر اللہ خان کے قریب رہنے والے مولانا فضل الرحمٰن دیگر سیاسی قیادت کے پابند سلاسل ہونے کے باعث حزب اختلاف کے قائد کے طور پر اُبھر رہے ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ جے یو آئی (ف) کا یہ مارچ اسلام آباد میں دھرنے کی صورت اختیار کرے گا یا احتجاجی جلسے کے بعد ختم ہو جائے گا۔

بلوچستان، دکی میں جے یو آئی کے کارکنوں اور لیویز میں تصادم
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:22 0:00

جے یو آئی کے سینئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کہہ چکے ہیں کہ اگر وزیرِ اعظم نے استعفی نہ دیا تو وہ اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔

گزشتہ ہفتے ایک غیر رسمی گفتگو میں وائس آف امریکہ کے سوال کہ "صحافی مارچ کے لیے کتنے دن کی تیاری کرکے آئیں؟" کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ کم از کم 30، 40 دن کی تیاری تو کریں۔

'آزادی مارچ' کے بنیادی مطالبات میں وزیرِ اعظم کا مستعفی ہونا اور فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔ جس پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق دکھائی دیتی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG