رسائی کے لنکس

logo-print

’علامہ اقبال اُسی جمہوری نظام کے حامی تھے جو مغرب میں رائج ہے‘


سنہ 1926میں اسمبلی فلور پر علامہ اقبال کی مختلف تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے، بیرسٹر ولید اقبال نے کہا ہے کہ ’ان تقاریر میں خواتین کے حقوق، لازمی تعلیم اور عوامی حقوق کی باتیں شامل ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کا خاصہ ہے‘

علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ مفکر پاکستان، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا تصور جمہوریت جدید اور ترقی پسند نظام جمہوریت سے مختلف تھا؛ اور دعویٰ کیا ہے کہ آج مغرب میں جو جموری نظام رائج ہے، اقبال اسی جمہوریت کے حامی تھے۔

’علامہ اقبال اور ابھرتا ہوا پاکستان‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے، علامہ اقبال کے پوتے نے کہا ہے کہ ’علامہ کا تصور جمہوریت ترقی پسندانہ ہےجس کا ثبوت یہ ہے انھوں نے بذات خود اس جمہوری عمل میں حصہ لیا؛ اور لاہور سے 1926ء میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے‘۔

اُنھوں نے یہ بات نیویارک میں پہلی ’فکر اقبال کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ولید اقبال نے اسمبلی فلور پر ہونے والی علامہ اقبال کی مختلف تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تقاریر میں خواتین کے حقوق، لازمی تعلیم اور عوامی حقوق کی باتیں شامل ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کا خاصہ ہے۔

بقول اُن کے، علامہ سمجھتے تھے کہ جمہوی نظام میں کردار کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ الیگزینڈر پوپ کے مقابلے میں علامہ سمجھتے تھے کہ حکومت اور اس کے کاموں میں شرکت کے حوالے سے کردار کو فیصلہ کن مقام حاصل ہے۔ سیاسی قوت سے محرومی کو کسی قوم کے لئے وہ تباہ کن قرار دیتے تھے۔ انھوں نے جس پاکستان کا تصور دیا وہ جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا۔

ولید اقبال کا کہنا تھا کہ علامہ ایسی جمہوریت کے حامی نہیں تھے کہ جس کو استعمال کرکے ایک چھوٹی سی اقلیت بھاری اکثریت پر حکمرانی کرتی رہے۔ بلکہ، ایسی جمہوریت چاہتے تھے جس میں کردار سے عاری شخص کی کوئی گنجائش نہ ہو، جیسا کہ آج مغرب میں ہے۔

ولید اقبال نے کہا کہ علامہ جمہور کی حقیقی حکمرانی قائم کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے، انھوں نے تصور پاکستان دیا اور اس تصور کی تکمیل کے لئے سیاسی تحریکیں برپا کیں، اور ان تحریکوں کی قیادت کے لئے خود محمد علی جناح سے سے درخواست کی‘۔

XS
SM
MD
LG