رسائی کے لنکس

logo-print

'کیا ایک کروڑ روپے خاندان کی عزت پر لگا داغ دھو دیں گے؟'


مقتول مدثر جس کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اسے قصور پولیس نے جعلی مقابلے میں مار دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

قصور میں پیش آنے والے بچوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں سے ایک واقعہ معصوم ایمان فاطمہ کا بھی تھا جس سے جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں پولیس نے ایک ملزم مدثر کو مبینہ طور پر جعلی مقابلے میں ماردیا تھا۔

قصور کی رہائشی آمنہ بی بی کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کے شوہر کو جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا تھا۔ ان کا بیٹا اس وقت صِرف ڈیرھ سال کا تھا۔ ان کے بقول جب ان کا بیٹا بڑا ہو گا تو اس کے دل سے پولیس کے خلاف نفرت کیسے کم ہو گی؟ کیا وہ معاشرے کا باعزت شہری بن سکے گا؟

آمنہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو نہیں بتائیں گی تو بھی یہ معاشرہ اس کو بتائے گا کہ اس کے باپ کو کم سن لڑکی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں جان سے مار دیا گیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر قصور میں پیش آنے والے بچوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں سے ایک واقعہ معصوم ایمان فاطمہ کا بھی تھا جسے فروری 2017ء میں زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے ایک بچے کی شناخت پر اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں مدثر نامی شخص کو اس کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ لیکن اگلے ہی روز پولیس نے مدثر کو شہر کے باہر ایک مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مدثر کے پکڑے جانے پر قصور شہر میں پولیس کے حق میں نعرے لگائے گئے تھے لیکن مدثر کی ہلاکت کے بعد بھی قصور میں بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات رک نہیں سکے تھے۔

گزشتہ ماہ گرفتار ہونے والے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کا ڈی این اے دیگر بچیوں کے ساتھ ساتھ ایمان فاطمہ کے ساتھ بھی میچ کر گیا تھا جس کے بعد مدثر کے اہلِ خانہ نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہے کہ مدثر کو پولیس نے بے گناہ مارا۔

مدثر کے بھائی عدنان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی کارخانے میں کام کر کے گھر واپس پہنچے ہی تھے کہ پولیس گھر آگئی اور اس کے بھائی کو اٹھا کر لے گئی اور اگلے روز انہیں پتا چلا کہ اس کے بھائی کو مار دیا گیا ہے۔

عدنان کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کے قتل کے بعد ان کے پورے خاندان کو بہت مشکلات جھیلنا پڑیں۔

"ہمارا سارا خاندان دربدر ہو گیا تھا۔ محلے والوں نے ہمارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔ میرے بھائی کا جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا۔ ہمارے گھر ایک سال تک کوئی افسوس کے لیے نہیں آیا۔ اب لوگوں کو پتا چل رہا ہے تو وہ افسوس کے لیے آ رہے ہیں۔"

عدالت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی گئی ہے۔ لیکن انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس عارف نواز نے بھی اس واقعے پر ایڈیشنل آئی جی ابو بکر خدا بخش اعوان کی سربراہی میں ایک علیحدہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے۔

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر آئی جی پنجاب نے تسلیم کیا کہ بظاہر اس کیس میں پولیس سے غلطی ہوئی۔

"میں سمجھتا ہوں کہ پولیس کی غلطی تھی اور اس میں انہوں نے یقیناً غلط طریقے سے تفتیش کی۔ اس کی الگ تفتیش چل رہی ہے۔ ہمارے ایک ایڈیشنل آئی جی اس سارے معاملے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے جب اس کیس کے تفتیشی افسر سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہی ملزم تھا۔ پولیس کسی بھی جگہ کوئی فیک انکاونٹر نہیں کرتی۔۔ اگر انکوائری میں یہ ثابت ہو گیا تو قصوروار پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی۔"

مدثر کے بھائی عدنان کے مطابق پولیس کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور صلح صفائی کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

عدنان کے بقول ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے انہیں معاملہ ختم کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی پیش کش کی گئی ہے اور ان کی پیشکش نہ ماننے پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

"وہ کہتے ہیں یہ میڈیا آپ کے ساتھ چند دن ہے۔ اس کے بعد پانی پل کے نیچے سے ہی گزرنا ہے۔ آپ کا تعلق پولیس سے ہی رہنا ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں۔ اِس سے زیادہ آپ کیا کریں گے؟ آپ نے ہمارا ایک بھائی تو مارا دیا ہے۔ ہمیں بھی مار دیں۔ اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو پوری دنیا کے سامنے خود کو آگ لگا لیں گے۔"

مقتول مدثر کی اہلیہ آمنہ بی بی کہتی ہیں، "بہت باتیں سننی پڑی تھیں۔۔۔ اُس وقت کوئی ثبوت نہں تھا۔ چپ چاپ لوگوں کی باتیں سنتے رہے۔ سب لوگ کہتے تھے کہ کچھ کیا ہے تبھی تو پولیس نے مارا ہے۔ لیکن اب سب کے سامنے سچ آ گیا ہے۔ اب میں یہی چاہتی ہوں کہ ہمیں انصاف ملے۔"

مدثر کے قتل کے وقت قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر علی ناصر رضوی تھے۔ تو کیا ان کے ماتحت اہلکاروں نے ملزم کو ڈی این اے رپورٹ کا انتطار کیے بغیر ماورائے عدالت مار دیا تھا؟ کیا پولیس کی تفتیش ادھوری تھی؟ اور کیا پنجاب پولیس اسی طرح جعلی مقابلے کرتی ہے؟

ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے وائس آف امریکہ نے پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایسے واقعات کو حقیقی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس الزام کی تفتیش ہو رہی ہے۔

ان کے بقول "یہ خواہ مخواہ کی بات ہے۔ ہم انکوائری کر رہے ہیں۔ جو قانون کے مطابق ہو گا، اسی کے مطابق چلیں گے۔"

پولیس کی جانب سے مدثر کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی ٹیم نے ایک سب انسپکٹر، دو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور تین سپاہیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے پولیس اہکاروں کے بیانات میں تضاد ہے۔

جامعۂ پنجاب میں فرانزک شواہد اور قانون کے استاد عبداللہ عثمان کہتے ہیں کہ جعلی پولیس مقابلوں کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں اور یہ بھی قتل کے زمرے میں آتا ہے۔

ان کے بقول، "تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت کسی بھی شخص کو جان بوجھ کر مارنا قتل ہے اور دفعہ 109 کے تحت اس کا مشورہ دینے والا بھی شریکِ جرم تصور کیا جاتا ہے۔"

پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں صوبۂ پنجاب میں دو ہزار سے زائد مبینہ پولیس مقابلے ہوئے ہیں۔ لیکن مدثر کے واقعے کی طرح کئی اور مقابلوں کے درست ہونے پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG