رسائی کے لنکس

logo-print

القاعدہ نے اپنے سینئر رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کر دی


مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں ناصر الوحیشی کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری کا نائب اور سابق رہنما اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی رہا ہے۔

القاعدہ نے منگل کو کہا کہ اس کی یمن شاخ کا سربراہ ناصر الوحیشی گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

یہ حملہ گزشتہ جمعہ کو یمن کے جنوب مشرقی ساحلی شہر المکلا میں ہوا تھا۔

اس سے قبل امریکہ کے حکام نے کہا تھا کہ وہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کے لیے کام کررہے ہیں۔

مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں ناصر الوحیشی کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری کا نائب اور سابق رہنما اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی رہا ہے۔

امریکہ باور کرتا ہے کہ وہ القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ کی 2009ء سے سربراہی کرتا آ رہا ہے۔

امریکہ القاعدہ کی جزیرہ نما عرب کی شاخ کے جنگجوؤں کو نشانہ بناتا آرہا ہے لیکن حکام نے جمعہ کو المکلا میں ہونے والی مبینہ کارروائی میں سی آئی اے کے ملوث ہونے سے متعلق کچھ نہیں کہا۔

انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدت پسند گروپ اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ الوحیشی ہلاک ہو چکا ہے۔

الوحیشی کی قیادت میں القاعدہ کی اس شاخ نے کئی بڑے دہشت گردانہ منصوبے بنائے جن میں 2009ء میں کرسمس کے موقع پر ایک امریکی مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔

رواں سال جنوری میں اس گروپ نے پیرس میں فکاہیہ جریدے "شارلی ایبڈو" کے دفتر پر ہوئے ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

امریکہ نے الوحیشی کی گرفتاری سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG