رسائی کے لنکس

امریکہ: چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے پولیس استعمال پر پابندی


ناقدین کی جانب سے مسلسل الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی نامور ٹیکنالوجی کمپنی 'ایمیزون' نے چہرہ شناخت کرنے والی اپنی ٹیکنالوجی کے پولیس کے استعمال کرنے پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مشکوک افراد کی شناخت کے لیے 'فیشل ریکگنیشن' ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ناقدین کی جانب سے مسلسل الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

ایمیزون نے بدھ کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پولیس پر پابندی لگا رہے ہیں کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال نہیں کر سکے گی۔ تاہم کمپنی نے اپنے بیان میں اس پابندی کی وجوہات کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

ایمیزون نے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پولیس اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی پر پابندی کا اطلاق قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں بشمول فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) پر بھی ہو گا یا نہیں۔

ایمیزوں نے بھی اپنے بیان میں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایمیزون کے اپنے کئی ملازمین کمپنی سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی فروخت روک دے۔

سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹیکنالوجی شہریوں کے پرائیویسی کے حق کے خلاف ہے اور یہ رنگت کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا سبب بن رہی ہے۔

ایمیزون نے بدھ کو جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مشکوک افراد کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے درست استعمال کے لیے سخت قانون سازی کرے۔

ایمیزون کے بقول موجودہ حالات میں کانگریس اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے بظاہر تیار دکھائی دے رہی ہے۔

ایمیزون نے کہا ہے کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کے قواعد کے نفاذ کے لیے کانگریس کے پاس ایک سال کا عرصہ موجود ہے۔ اگر کانگریس نے اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کی تو کمپنی اس کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ ایمیزون سے قبل امریکی ٹیکنالوجی کمپنی 'آئی بی ایم' نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے کاروبار سے باہر نکل رہے ہیں اور آئندہ اس ٹیکنالوجی پر کام نہیں کریں گے۔

سان فرانسسکو سمیت امریکہ کے کئی شہروں میں اس ٹیکنالوجی کے پولیس اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے استعمال پر پابندی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پرائیویسی اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کی محقق کلیئر گاروے نے کہا ہے کہ ایمیزون کا فیصلہ اہم ہے لیکن یہ علامتی ہے کیوں کہ اس سے امریکہ میں چہرہ شناخت کرنے کا عمل تبدیل نہیں ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو کے محکمۂ پولیس نے گزشتہ برس اس ٹیکنالوجی کا آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا تھا تاہم اسے مستقل نہیں کیا تھا۔ ان کے بقول اس کا سب سے زیادہ استعمال ریاست اوریگن کی واشنگٹن کاؤنٹی کے پولیس اہلکار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG