رسائی کے لنکس

امریکہ میں جاری احتجاج میں سوشل میڈیا کا کتنا ہاتھ ہے؟


جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے خلاف واشنگٹن میں ہونے والا ایک مظاہرہ، 7 جون 2020

"ہم نوجوان اس مظاہرے میں اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے پاس سوشل میڈیا کی طاقت ہے اور ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے جو ہر سال بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔"

یہ بات 17 سالہ افریقی امریکی ٹیانا ڈے نے امریکہ کے مشہور گولڈن گیٹ پل پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کہی جب چند طالبات کی سوشل میڈیا کے ذریعے مہم کے جواب میں سان فرانسسکو اور اس کے گرد و نواح سے ہزاروں لوگ ایک پرامن مظاہرے میں شریک ہوئے۔

یہ مظاہرہ سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں موت کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کی ایک کڑی تھا۔ اگرچہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو کسی مسئلہ پر اکٹھا کرنے کی یہ کوئی انوکھی مثال نہیں لیکن ماہرین کے مطابق امریکہ کے موجودہ حالات میں نوجوانوں کی ان مظاہروں میں شرکت اور سوشل میڈیا کا استعمال معاشرتی ارتقا ایک اہم پہلو ہے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے آغاز میں اس ویڈیو کا بہت عمل دخل ہے جس میں انہیں ایک پولیس افسر کے گھٹنے تلے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو بڑے پیمانے پرانٹرنیٹ پر دیکھی گئی۔

ٹیکنالوجی اور معاشرتی پہلوؤں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کو دونوں، مثبت اور منفی عزائم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایمنڈا نیل ایڈگر جو کہ دی سٹرگل بلیک لائیوز میٹر آل لائیوز میٹر کی مصنفہ ہیں، کہتی ہیں کہ جب لوگ کسی تصویر کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر ایک جذباتی ردعمل پیدا ہوتا ہے جسے وہ اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی وہ تنبیہ کرتی ہیں کہ اگر کسی تصویر کو اس کے تناظر سے ہٹ کر دکھایا جائے تو اس سے لوگوں کو گمراہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق کیونکہ جاج فلائیڈ سے متعلق ویڈیو میں کوئی ابہام نہیں تھا اس لئے لوگوں نے شعوری طور اسے دیکھنے کے بعد احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔

گزشتہ دہائی میں سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک نظر ڈالی جائے جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ زیادہ تر لوگ اسے اپنے جمہوری حقوق کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس کی ایک بڑی مثال مشرق وسطیٰ میں عرب اسپرنگ کے دوران جمہوری تحریکوں میں ملتئ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دنیا کے مختلف رہنما اور سیاسی گروپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سیاسی پیغام رسانی اور اپنے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

دوسری طرف بہت سے لوگ سوشل میڈیا کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں سوشل میڈیا کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بڑی مثال خواتین کی 'می ٹو موومنٹ' میں نظر آتی ہے۔

جہاں تک افریقی امریکی برادری کا سوشل میڈیا کے استعمال کا تعلق ہے تو تحقیقی ادارے پیو ریسرچ کے مطابق ان میں تقریباً نصف حصہ یہ سمجھتا ہے کہ ان کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ انہیں اپنے سیاسی نظریات کے اظہار اور اپنے مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

احمد فلیکس عمر ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں اور مسلم امریکن لیڈر شپ الائنس یعنیMALA سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اپنی آواز کو دنیا تک پہنچانے اور اپنی شناخت کو بتانے کے سلسلے میں ٹیکنالوجی اور میڈیا کا بہت اہم کردار ہے کیونکہ یہ موثر ذرائع ہیں۔

عمر جو کہ صومالی نژاد امریکی ہیں، کہتے ہیں کہ انفرادی کہانیاں جب منظر عام پر آتی ہیں تو وہ تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ غلط تاثرات کو چیلنج کرتی ہیں، ایک دوسرے کو پل تعمیر کر کے سمجھنے کا موقع پیدا کرتی ہیں اور لوگوں کو کسی کاز کے لیے متحرک کرتی ہیں۔

حالیہ احتجاجی مظاہروں میں جہاں افریقی امریکی برادری نے نسلی امتیاز اور پولیس کے سیاہ فام لوگوں سے برتاؤ کے متعلق اپنی آواز بلند کی وہاں کچھ لوگوں نے ان مظاہروں کے دوران تشدد اور لوٹ مار کا راستہ بھی اختیار کیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کسی بھی تحریک یا احتجاج کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

لیکن کیا ایسے تخریبی عناصر نے سوشل میڈیا کا استعمال کیا؟

وائس آف امریکہ نے واشنگٹن میں قائم سینٹر فار پلورلزم کے بانی مائیک غوث کے سامنے یہ سوال رکھا تو انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے لوگوں کو پرتشدد کارروائیوں پر اکسایا۔ توڑ پھوڑ اور تشدد یقیناً غلط ہے لیکن ہمیں ایسے واقعات کو مناسب تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی سوالیہ نشان ہیں اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کسی سازشی مفروضوں کا حصہ ہیں۔

مائیک غوث جو ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن دونوں سیاسی پارٹیوں سے امریکی مسلمانوں کو درپیش مسائل پر مکالمہ کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ کہیں بھی جب مظاہرے ہوتے ہیں تو کچھ موقع پرست لوگ لوٹ مار اور تشدد کے ذریعے افراتفری اور عدم استحکام کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا۔ 'میں سمجھتا ہوں کہ مظاہرے ایک زندہ اور جیتی جاگتی جمہوریت کا مظہر ہیں۔ اور امریکی تاریخ میں پہلے صدر جارج واشنگٹن کے عوام کے کمائے پیسے کو ٹیکس کی صورت میں برطانیہ بھیجنے پر احتجاج نے امریکہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

مائیک غوث نے کہا کہ ان کے لیے اس احتجاج کا سب سے اہم پہلو مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کا یک زبان ہونا اور ایک ساتھ شرکت کرنا ہے۔ اور یہ عمل جمہوریت کے حسن اور مساوات کے کثیرالثقافتی امریکی نظریات کے عین مطابق ہے کیونکہ امریکہ میں بسنے والے تمام افراد کو آئینی اور قانونی طور پر یکساں حیثیت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG