رسائی کے لنکس

”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“


”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“
”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک اعلیٰ عہدے دار سمن ضیا ظریف نے جمعرات کواسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں اپنی تنظیم کی خصوصی رپورٹ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آبادلگ بھگ 40لاکھ افراد طالبان کے زیر تسلط رہنے پر مجبور ہیں جہاں اُن کے بنیادی حقوق شدت پسندوں اور علاقے میں موجود سرکاری فوج کے ہاتھوں پامال ہو رہے ہیں۔

130 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے شمالی مغربی علاقوں میں 2009ء میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے 8500 افراد میں 1300 عام شہری بھی شامل تھے لیکن ان ہلاکتوں پر سرکاری سطح پر بہت کم ذکرکیا گیا ہے۔

”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“
”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“

عام قبائلیوں کی ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ لڑائی اور بمباری کے دوران طالبان جنگجو علاقے سے باہرجانے والی سڑکوں کو روکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردیتے ہیں تاکہ لوگ علاقہ چھوڑ کر نہ جاسکیں جب کہ فضائی حملوں کے دوران طالبان عسکریت پسند عام آبادی اور سکولوں میں بھی چھپ جاتے ہیں اورجس سے شہری ہلاکتوں کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔

تاہم تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ شورش پسندی کا مقابلہ کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والی پاکستانی فوج جب فاٹا میں طالبان کے خلاف آپریشنز کے لیے بھیجی گئی تو اُنھوں نے دشمن کو مارنے کی کوشش میں عام شہریوں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا۔

قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ ان سے پاکستان میں امریکہ کی مخالفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ پر بھی زور د یتے ہوئے کہا کہ وہ فاٹا میں ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت پر اپنی پالیسی واضح کرے اور یہ بھی بتائے کہ میزائل حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والوں کا احتساب کون کرے گا۔

رپورٹ میں حکومت پاکستان اور طالبان پر زور دیا گیاہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے سکولوں ، ہسپتالوں کی عمارتوں کو نشانہ نہ بنانے اور شہری ہلاکتوں سے اجتناب کو یقینی بنائیں ۔ اس کے علاوہ فریقین پر زور دیا گیا کہ غیر سرکاری تنظمیوں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مدد فراہم کی جائے تاکہ مقامی آبادی کو امداد فراہم کی جاسکے۔

رپورٹ میں وفاق کے زیر انتظام پاکستان کے قبائلی علاقوں کو ”ہیومین رائٹس فری زون“ یا ایسا علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں انسانی حقوق کی کوئی پاسداری نہیں کی جاتی جب کہ لڑائی کے باعث ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً 10 لاکھ افراد اب بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اُنھیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے علاقائی ڈائریکٹر نے بتایا کہ تقریباً تین سو مقامی افرادسے بات چیت کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے مطابق اکثریت نے قبائلی علاقوں میں بھرپور طاقت کے استعمال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“
”قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط“


طالبان عسکریت پسندوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو بھی علاقے میں اُ ن کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے اُس کے خلاف سخت کارروائی اور اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ امدادی و سیاسی کارکنوں، استاتذہ اور خواتین کو بھی طالبان جنگجو اپنی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بناتے آئے ہیں ۔

دریں اثناء وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سید ممتاز عالم گیلانی نے پاکستان کے قبائلی اور دیگر علاقوں کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے۔

جمعرات کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ شمال مغربی پاکستانی بالخصوص قبائلی علاقوں میں شورش ہے اور وہاں پاکستانی فوج قبائلیوں کے ساتھ مل کر شرپسند عناصر کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہی ہے اور ان کے بقول ابھی بھرپور جنگ کا آغاز نہیں کیاگیا اور 40فیصد شرپسندوں کو وہاں سے بھگا دیا ہے۔

ممتاز عالم گیلانی
ممتاز عالم گیلانی

انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں شورش یا جنگ ہوتی ہے وہاں کبھی بھی قانونی تحفظ حاصل ہونے کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ ”وہاں غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے اور ایسے میں عام قوانین بھی معطل ہوجاتے ہیں ،ایمرجنسی جیسی صورتحال ہوتی ہے اور یہاں ان کے سختی سے نفاذ کو یقینی بنانا آسان نہیں ہوتا۔“

وفاقی وزیر ممتاز گیلانی کا کہنا ہے کہ وہاں پاکستانی فوج لوگوں کی جان،مال اور عزت کی محافظ ہے اور وہ اپنا فرض بخوبی ادا کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG