رسائی کے لنکس

logo-print

روس پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام


امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس، فائل فوٹو

مغربی ممالک نے روس کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ ترک کر دے جس میں اسلحے کے کنٹرول کی خلاف ورزی، بڑے پیمانے پر سائبر حملے اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کے قتل کی کوشش شامل ہیں۔

جمعرات کے روز بیلجیئم میں ایک اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا کہ روس درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

نیدر لینڈز نے انکشاف کیا کہ اس نے موجودہ سال کے شروع میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر تحقیق کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے پر روس کے ایک سائبر حملے کو روکا تھا۔

امریکہ کا خیال ہے کہ روس آئی این ایف نامی سرد جنگ کے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایسا جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جو ایک مختصر نوٹس پر ماسکو کو یورپ پر جوہری حملہ کرنے کے قابل بنا دے گا۔

امریکی وزیر دفاع نے نیٹو کے وزرا کو بتایا کہ اگر ماسکو معاہدے کی حدود کی تعميل پر واپس نہ آیا تو واشنگٹن اپنا رد عمل ظاہر کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسا کرنے کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے ساتھ سفارت کاری اور دفاع کے اپنے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ سمجھنے میں غلطی نہ کریں کہ روس کی جانب سے اس معاہدے کی نمایاں خلاف ورزی کی موجودہ صورت حال کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

روس کسی بھی خلاف ورزی کی ترديد کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ امریکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے میزائل ڈیفنس سسٹمز نصب کر چکا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ روس حال ہی میں میزائل کے ایک ایسے نئے نظام کے وجود کا اعتراف کر چکا ہے جس سے اتحاد کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے روس کی دوسری خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا، مثلاً اپنے پڑوسیوں کے خلاف طاقت کا استعمال، انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور غلط معلومات پھیلانا۔

سٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ ڈچ اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے آج کے اعلان نے دنیا بھر میں سائبر حملوں سے متعلق روس کی بلا امتياز مہم کو عیاں کر دیا ہے۔

نیدر لینڈز نے جمعرات کے روز یہ انكشاف کیا کہ روس کی فوجی انٹیلی جینس سروس، جی آر یو نے ہیگ میں کیمیاوی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق ایک ادارے پر ایک سائبر حملے کی کوشش کی تھی۔

اس سے چند گھنٹے قبل، برطانیہ نے اپنے قریبی اتحادیوں، آسٹریلیا اور نیو زی لینڈ کی تائید کے ساتھ یہ الزام لگایا کہ جی آر یو سائبر حملوں کی عالمی سطح کی ایک قابل نفرت مہم چلا رہا ہے۔ اتحادیوں نے روس کو انتباہ کیا کہ اس کے عاقبت نا اندیش رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے کہا کہ وہ چند شعبے جہاں یہ کارروائیاں ہو رہی ہیں مثلاً اسپورٹس میں نشہ آور ادویات کا استعمال اور اقتصادی مفاد کے شعبوں میں اس کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور ایک بین الاقوامی کمیونٹی کے طور پر ہمیں اسے یہ چیز دو ٹوک انداز میں واضح کر دینی چاہیے۔ اور ایک حکومت کے طور پر ہم بالکل ایسا ہی کر رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ انصاف نے جمعرات کے روز انٹیلی جینس کے ساتھ روسی افسروں پر ہیکنگ، وائر فراڈ، شناخت کی چوری اور منی لانڈرنگ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خلاف جرائم کے الزامات کا اعلان کیا۔ ان میں سے تین کو جولائی کی اس فرد جرم میں نامزد کیا گیا تھا جس میں روس پر 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کے ای میل اکاؤنٹس کی ہیکنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG