رسائی کے لنکس

logo-print

روس ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب میں مدد نہیں دے رہا: اوبرائن


امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن، فائل فوٹو

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے کہا ہے کہ انہوں نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے کہ روس صدر ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے میں مدد کے لیے کچھ کررہا ہے۔ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے انٹیلی جینس کی ان رپورٹوں کا جائزہ نہیں لیا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ماسکو 2020 کے انتخاب میں دخل اندازی کر رہا ہے۔

ٹرمپ، جو اس وقت بھارت کے دو روزہ دورے پر ہیں، ایسے کسی خیال کو مسترد کر چکے ہیں کہ روس نومبر کے انتخاب میں ان کی جیت چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کو نیشنل انٹیلی جینس کا قائم مقام ڈائریکٹر نامزد کریں گے۔ سابق ڈائریکٹر جوزف میگوائر کو ٹرمپ نے اس کے بعد اپنے عہدے سے الگ کر دیا تھا جب ان کے ایک مشیر نے حال ہی میں 2020 کے صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے بارے میں ایوان کی ایک کمیٹی کو بریفنگ دی تھی۔

نیوز رپورٹس کے مطابق میگوائر کے مشیر نے کہا ہے کہ روس نے صدر کی طرفداری کی ہے، جس پر ٹرمپ ناراض ہو گئے۔ جنہیں ڈر ہے کہ یہ معلومات ان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔

اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے کہا کہ میں نے انٹیلی جنیس کی کوئی ایسی رپورٹ نہیں دیکھی ہے کہ روس صدر ٹرمپ کو دوبارہ منتخب ہونے میں مدد کی کوشش میں کچھ کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہی پرانی کہانی ہے جو ہم پہلے بھی سن چکے ہیں اور روسیوں کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ وہ امریکی انتخابات سے دور رہیں۔ ہم روس کے ساتھ بہت سخت رہے ہیں۔ ہم انتخاب کی سیکیورٹی کے بارے میں بہت اچھے رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی خبر نہیں ہے۔

واشنگٹن میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی ایک حساس مسئلہ ہے۔ امریکی سینیٹ کے ری پبلیکن اراکین نے اس ماہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے پیش کیے گئے انتخابی سیکیورٹی سے منسلک تین بل مسترد کر دیے تھے۔ او برائن نے سوال اٹھایا کہ روس ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب میں مدد کیوں کرے گا۔

اے بی سی کے پروگرام دس ویک میں گفتگو کرتے ہوئے رابرٹ او برائن نے کہا کہ روس اس صدر کو کیوں چاہے گا، جنہوں نے امریکی فوج کی تعمیر نو کی ہے۔ جنہوں نے یوکرین کو ہلاکت خیز اسلحہ اور جیولن میزائل دیئے ہیں اور روسیوں پر حالیہ تاریخ کے کسی بھی صدر سے کہیں زیادہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ وہ ان کا دوبارہ انتخاب کیوں چاہیں گے۔

اس ہفتے صدر نے حریف ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز کی مہم میں مدد کی روسی کوششوں کی خبر کی نشاندہی کی تھی۔ ان رپورٹس کے جواب میں سینڈرز نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ انہیں اس کی پروا نہیں ہے کہ روسی لیڈر ولادی میر پوٹن 2020 کے انتخاب میں کس کی جیت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹن کے لیے میرا واضح پیغام ہے کہ وہ امریکی انتخابات سے دور رہیں، اور صدر کے طورپر میں یہ یقینی بناؤں گا کہ آپ ایسا کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG