رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے پادری رہا نہ کرنے پر ترکی کو پابندیوں کی دھمکی دے دی


امریکی پادری انیڈریو برونسن، جسے ایک ترک عدالت نے 21 ماہ کے لیے اپنے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ترکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انقرہ نے زیر حراست امریکی پادری کو رہا نہ کیا تو اسے وسیع تر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر کی اس دھمکی سے نیٹو کے دو اتحادی ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ترک عدالت کی جانب سے پادری اینڈریو برونسن کو 21 مہینوں کی گھر میں نظربندی کی اجازت دیئے جانے کے بعد انقرہ پر اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے۔

پادری کے خلاف دہشت گردی کے الزامات پر مقدمہ چل رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے امریکہ، شاندار شخصیت کے مالک اور عظیم مسیحی پاسٹر انیڈریو برونسن کی طویل مدت کی قید پر ترکی کے خلاف وسیع تر پابندیاں لگائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بڑی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔ اس معصوم مذہبی شخصیت کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اس سے کچھ ہی دیر پہلے امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے ، ترکی کے صدر کو اسی طرح کی دھمکی دی تھی۔

انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے تحت مذہبی آزادیوں سے متعلق ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر طیب اردوان اور ترک حکومت کو امریکہ کے صدر کی جانب سے یہ پیغام دے رہا ہوں کہ پاسٹر انیڈریو برونسن کو ابھی رہا کریں یا اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس دھمکی کا زر مبادلہ کی منڈی پر فوری اثر ہوا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ترکی کرنسی کی قیمت گر گئی۔

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں پیدا ہونے والے برونسن گزشتہ 20 برس سے ترکی میں کام کر رہے ہیں۔ ان پر ایک گروپ کو مدد فراہم کرنے کا الزام ہے ۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے وہ گروپ بھی تھا۔

پادری برونسن کو، جنہوں نے خود پر لگائے جانے والے الزامات سے انکار کیا ہے، جرم ثابت ہونے کی صورت میں 35 سال تک جیل کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز نے صورت حال کے بارے میں علم رکھنے والے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے عہدے دار برونسن کی رہائی کے لیے ایک معاہدے پر کام کرتے رہے ہیں اور واشنگٹن یہ توقع کر رہا تھا کہ اسے پچھلے ہفتے عدالت میں سماعت کے موقع پر رہا کر دیا جائے گا۔

محکمہ خارجہ کی اس تقریب میں پادری برونسن کی بیٹی بھی موجود تھیں۔ نائب صدر پینس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، جیسا میں نے کل آپ کے والد کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ اور میں آپ کے والد کی مکمل رہائی کے لیے اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک وہ امریکہ اپنی فیملی میں واپس نہیں آ جاتے۔

کرسچن رائٹ گروپ جو صدر ٹرمپ اور نائب صدر پینس کے ووٹوں کی بنیاد کا ایک اہم حصہ ہے، پاسٹر برونسن کے مقدمے کے سلسلے میں انتظامیہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG