رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل نہیں کریں گے: ترکی


ایران کے صدر حس روحانی، ترک صدر رجب طیب اردوان اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن انقرہ میں ایک کانفرنس کے موقع پر۔ اپریل 2018

ترکی جسے ایندھن کی اشد ضرورت ہے، اپنے تیل اور قدرتی گیس کی ضروريات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے جب کہ ترک سرمایہ کار اس ملک کی مارکیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے منگل کے روز اس بات کو خارج از امکان قرار دیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل کرے گا۔ جس سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تناؤ میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

جاویش اوغلو نے گزشتہ جمعے انقرہ میں ایک سینیر امریکی عہدے دار سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ ہم ان پابندیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم ان سے اس بارے میں وضاحت کر رہے تھے کہ ہم ان کی پابندیوں کی تعميل نہیں کریں گے تو ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ہم ان پابندیوں کو موزوں نہیں سمجھتے۔

انقرہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری توانائی پروگرام کے عالمی معاہدے امریکہ کو الگ کرنے کے بعد، ایران کے خلاف پابندیاں لگائے کی مخالفت کرتا ہے۔

سخت نوعیت کی امریکی پابندیاں اگست کے آخر تک موثر ہو جائیں گی۔ جب کہ ایران کی تیل کی برآمد پر پابندیوں کا آغاز نومبر سے ہو گا۔

ترکی جسے ایندھن کی اشد ضرورت ہے، اپنے تیل اور قدرتی گیس کی ضروريات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے جب کہ ترک سرمایہ کار اس ملک کی مارکیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

جمعے کے روز دہشت گردی سے متعلق مالی أمور کے معاون وزیر خزانہ مارشل بیلنگزلی نے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور ترک عہدے داروں کے ساتھ اپنی بات چیت کو مثبت قرار دیا تھا۔

ترکی کے ایران اور روس کے ساتھ گہرے تعلقات نے اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ رابطوں کو دباؤ ڈالا ہے۔ پیر کے روز امریکی کانگریس نے ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کی ترکی کو فراہمی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ترکی روس سے ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG