رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں مسلم کمیونٹی تھینک ٹینک قائم


امریکن مسلم انسٹی ٹیوٹ کا اجلاس
امریکن مسلم انسٹی ٹیوٹ کا اجلاس

مسلم کمیونٹی کا شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا تھینک ٹینک ہے جس کی بنیاد تحقیق پر رکھی گئی ہے تاکہ اقلیتوں کو امریکہ میں درپیش چیلجنز کا سامنا کرنے کے لئے تیار کیا جاسکے۔

امریکی مسلمانوں نے واشنگٹن میں ایک نیا تھنک ٹینک قائم کیا ہے جس کا مقصد امریکہ میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو درپیش چیلجنز کا تحقیقی بنیادوں پر حل تلاش کرنا ہے۔ نئے تھنک ٹینک کے پہلے اجلاس میں مسلمان امریکی صحافیوں نے شرکت کی اور کمیونٹی کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔

امریکن مسلم انسٹی ٹیوٹ کے پہلے باضابطہ اجلاس سے خطاب میں معروف امریکی صحافی وجاہت علی کا کہنا تھا کہ جو مسائل ان دنوں امریکہ میں مسلم کمیونٹی کو درپیش ہیں کم و بیش ایسے ہی مسائل کا سامنا بعض دیگر کمیونٹی بھی یہاں کرچکی ہے۔ اور ان مسائل سے نکلنے کی واحد راہ امریکی آئین میں دیئے گئے حقوق کے تحفظ کے لئے کمیونٹی کا اتحاد ہے۔

تھینک ٹینک کے اسی اجلاس سے خطاب میں روزنامہ گارجین سے وابستہ صحافی سبرینا صدیقی نے کہا کہ غیر جانبدار خبریں دینا ایک صحافی کی ذمہ داری ہے لیکن ساتھ ہی عوام اور کمیونٹی کو حقیقی صورتحال سے آگاہی فراہم کرنا اور ان کی راہنمائی کرنا بھی بحثیت صحافی ذمہ داری ہے۔

سی بی ایس نیوز سے وابستہ صحافی شرف موجود نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ مسلم کمیونٹی ہر شعبہ میں آگے بڑھ کر شریک ہو۔ انھیں اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں بھی حصہ لینا چاہئے اور سٹی کونسل کے معاملات میں بھی، مقامی میڈیا میں بھی ان کے رابطے ہونے چائیں اور مقامی پولیس کے ساتھ بھی یعنی ہرشعبہ میں رابطہ مکالمہ اس وقت کمیونٹی کی ضرورت ہے۔

تھینک ٹینک امریکن مسلم انسٹیٹوٹ کے صدر ایمبسڈر اسلام صدیقی نے کہا کہ امریکہ میں مسلمان تمام بڑے مسائل پر خاموش رہتے ہیں حالانکہ یہ مسائل انھیں متاثر کرتے ہیں لہذا مسلمانوں کو اپنی خاموشی توڑنا ہو گی اور امریکی عوام اور حکام دونوں سے مکالمہ کرنا ہوگا اور اس تھینک ٹینک کے قیام کا مقصد بھی یہی مکالمہ ہے جس کے لئے باضابطہ تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

مسلم کمیونٹی کا شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا تھینک ٹینک ہے جس کی بنیاد تحقیق پر رکھی گئی ہے تاکہ اقلیتوں کو امریکہ میں درپیش چیلجنز کا سامنا کرنے کے لئے تیار کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG