رسائی کے لنکس

logo-print

امریکن ایئر لائن اپنے جہازوں کی تمام سیٹیں بک کرے گی


امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اور ایسے میں امریکہ کی فضائی کمپنی، امریکن ایئر لائنز، آئندہ ہفتے سے اپنے ہوائی جہازوں پر سماجی فاصلے کی قدغن کوختم کر رہی ہے اور اب اپنے جہازوں کی تمام سیٹیں بک کیا کرے گی۔

امریکن ایئر لائنز کا یہ اقدام، یونائٹد ایئر لائنز کی پالیسی سے میل کھاتا ہے، لیکن اپنے دیگر حریفوں برعکس ہے، جنہوں نے اپنے جہازوں پر سیٹوں کی بکنگ کو محدود رکھا ہے، تا کہ مسافروں کے درمیان فاصلہ رکھ کر، وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

جمعہ کے روز، فضائی کمپنی کا کہنا تھا اگر اُن کے جہاز کی تمام سیٹیں بک ہونے کا امکان ہوا تو وہ اس حوالے سے اپنے صارفین کو مطلع کرتے رہیں گے، اور وہ بغیر مزید معاوضہ لئے، انہیں پرواز تبدیل کرنے کی بھی اجازت دیں گے۔ ایئرلائن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جہاز میں جگہ ہوئی تو اپنے مسافروں کو سیٹ تبدیل کرنے کی بھی اجازت دیں گے۔

اس سال اپریل سے لیکر اب تک، امریکن ایئر لائنز اپنے جہاز کی کل سیٹوں کی پچاسی فیصد تک بکنگ کرتی تھی، اور درمیان کی سیٹیں خالی چھوڑ دیتی تھی۔ تاہم، آئندہ بدھ کے روز سے، ایئرلائن جہاز کی تمام سیٹیں بک کرے گی۔

ایک دوسری فضائی کمپنی، ڈیلٹا، 30 ستمبر تک، اپنے جہاز کی صرف 60 فیصد سیٹیں بک کرتی رہے گی، اور ایک دوسری فضائی کمپنی ساؤتھ ویسٹ صرف 67 فیصد۔ فضائی کمپنی جیٹ بلُو کا کہنا ہے کہ وہ اکتیس جولائی تک اپنی درمیان کی سیٹیں خالی چھوڑے گی۔

یونائیٹڈ، سپرٹ ایئر لائنز اور اب امریکن ایئر لائنز، الگ حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ، صفائی ستھرائی کے طریقہ کار کو مزید ٹھوس بنانے، اور تمام مسافروں کیلئے فیس ماسک لازمی قرار دینے جیسے اقدامات سے، سیٹیں خالی چھوڑنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

امریکن اور یونائیٹد ایسی ویڈیو اور تصاویر جاری کی ہیں جن میں جہازوں کی تمام نشستوں پر مسافروں کو دکھایا گیا۔ سماجی فاصلہ ختم کرنے پر، ان فضائی کمپنیوں کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔

جمعہ کے روز، امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ نئے مریضوں کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی، جو صرف ایک دن میں 40 ہزار ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، اس سے قبل ایک دن میں قائم ہونے والا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

امریکن ایئر لائنز کا صدر دفتر، فورٹ ورتھ، ریاست ٹیکساس میں ہے جہاں یہ قائم ہوئی۔ اس ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ نے جمعہ کے روز، وائرس کی وجہ سے دو ماہ پہلے عائد کردہ چند پابندیوں کو اٹھا لیا ہے، تا کہ معیشت کو دوبارہ سے چالو کیا جا سکے۔

امریکن ایئر لائنز کے اس تازہ اقدام کے بارے میں اعلان، جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہیں نیچے جا کر تھا۔ زیادہ تر اس میں صفائی ستھرائی کے بارے میں اٹھائے جانے والے اقدامات اور وائرس کو ختم کرنے سے متعلق ذکر تھا۔

ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسافروں سے پوچھا جائے گا، کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں، کہ اِن میں گزشتہ 14 روز سے کرونا وائرس کی وبا کی علامات نہیں تھیں۔

ایٹموسفیئر ریسرچ گروپ نامی ادارے سے وابستہ ایک ماہر، ہینری ہارٹ ویلٹ کا کہنا ہے کہ امریکن ایئرلائنز، اپنے منافع کو، مسافروں اور اپنے عملے کی صحت پر واضح طور پر فوقیت دے رہی ہے۔

بغیر کسی مکمل طبی ٹیسٹ کے، ہوائی جہاز میں سو فیصد نشستیں بھرنا ،ایک خطرناک کاروباری فیصلہ ہے۔ اگر کسی کو کھچا کھچ بھرے جہاز میں، کرونا وائرس لگ گیا، تو وہ امریکن ایئرلائنز پر مقدمہ کر دے گا۔ ہینری کہتے ہیں کہ صرف اس لئے کہ ایک دوسری ایئر لائن ایسا کر رہی ہے، تو اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ ایک درست کاروباری فیصلہ ہے۔

تاہم ایک دوسرے ماہر، بریٹ سنائیڈر کا کہنا ہے کہ کاروباری تناظر میں شاید امریکن ایئرلائن کے پاس اپنے فیصلے کو سہارا دینے کیلئے پورا ڈیٹا موجود ہے۔ اگر وہ پورے جہاز کی سیٹیں بھرنے جیسی تبدیلی کر رہے ہیں، تو پھر انہیں علم ہو گا کہ لوگ بہت سی باتیں کریں گے۔

عالمی وبا نے فضائی کمپنیوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے، اور اپریل میں سفر کرنے میں 95 فیصد کمی ہوئی تھی۔ بعد میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال جمعرات کے روز، امریکی ہوائی اڈوں سے سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرنے والوں کی تعداد، اور اس برس اسی دن گزرنے والوں میں 77 فیصد کمی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG