رسائی کے لنکس

برطانوی نژاد امریکی خاتون ’کے ٹو‘ سر کرنے کی مہم پر


ونیسا او برائن

ونیسا اس سے قبل 2015ء اور 2016ء میں بھی کے ٹو سر کرنے کی کوشش کر چکی ہیں لیکن خراب موسم کے سبب وہ اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

برطانوی نژاد امریکی کوہ پیما ونیسا او برائین پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے لیے پاکستان پہنچی ہیں۔

وہ اس سے قبل 2015ء اور 2016ء میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کر چکی ہیں لیکن خراب موسم کے سبب وہ اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

لیکن وہ پراُمید ہیں کہ رواں سال خراب موسم اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

وہ اپنی مہم کا آغاز آئندہ ماہ کریں گی۔

ونیسا او برائین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اپنے ہمراہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ پاکستان کا پرچم بھی ساتھ لے کر جائیں گی۔ اور کو ٹو سر کرنے پر وہاں لہرائیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر وہ کے ٹو سر کر لیتی ہیں تو وہ پہلی امریکی اور برطانوی خاتون ہوں گی۔ اُن کے بقول اس سے قبل دو برطانوی خواتین کے ٹو سر کرنے گئی تھیں لیکن وہ زندہ واپس نہیں پہنچیں۔

اس مہم کے ارکان کو پاکستان کا قومی پرچم پیش کیا گیا، یہ پرچم مہم کی کامیابی کی صورت میں کے ٹو کی چوٹی پر لہرایا جائے گا۔

ونیسا اور اُن کی ٹیم کو پاکستانی پرچم پیش کیا گیا
ونیسا اور اُن کی ٹیم کو پاکستانی پرچم پیش کیا گیا

ونیسا نے کہا کہ ’’دوسرے پرچم جو یکساں طور پر اہم ہیں وہ برطانیہ اور امریکہ کے قومی پرچم ہیں ( یہ میری دہری شہریت کا مظہر ہیں) اس کے علاوہ پاکستان کا پرچم (کے ٹو) کی چوٹی پر لہرایا جائے گا اور یہ دوستی، امن اور اخوت کا مظہر ہیں۔‘‘

ونیسا اوبرائن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔

اُنھوں نے پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2016ء میں دس لاکھ سیاح گلگت بلتستان گئے جو کہ 2015ء کے مقابلے اس علاقے کا سفر کرنے والے سیاحوں سے 67 فیصد زیادہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب دنیا کو یہ معلوم ہو گا کہ پاکستان کے ان علاقوں میں سات ہزار فٹ سے بلند درجنوں چوٹیاں ہیں تو یقیناً اس سے (سیاحوں کی) تعداد میں اضافہ ہو گا۔

وینسا نے بتایا کہ ان کی ٹیم میں آٹھ کوہ پیما شامل ہیں جن میں سے تین کا تعلق چین، دو کا امریکہ، دو کا آئس لینڈ، ایک ناروے اور ایک سنگاپور سے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG