رسائی کے لنکس

ادب کا نوبیل انعام امریکی شاعرہ لوئیس گلوک نے جیت لیا


ادب کا نوبیل انعام جیتنے والی امریکی شاعرہ لوئیس گلوک (فائل فوٹو)

اس سال ادب کا نوبیل انعام امریکہ کی شاعرہ لوئیس گلوک نے جیت لیا ہے۔

نوبیل ایواڈ دینے والی سوئیڈن کی اکیڈمی نے گلوک کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شاعری کی خوبیاں انسانی وجود کو عالمگیریت کے درجے پر فائز کرتی ہیں۔

اس سے قبل ادب کا نوبیل انعام آخری بار کسی امریکی شہری کو سن 2016 میں ملا تھا جب موسیقار اور گیت نگار باب ڈیلین اس کے حق دار ٹھیرے تھے۔ اس سے پہلے یہ اعلیٰ ترین ادبی اعزار 1993 میں امریکہ کے حصے میں آیا تھا جو ناول نگار ٹونی موریسن کو ان کی تخلیقات پر دیا گیا تھا۔

گلوک سن 1943 میں نیویارک میں پیدا ہوئیں اور وہ ریاست کنیٹی کٹ کی ییل یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتی رہی ہیں۔ ان کی پہلی کتاب 'فرسٹ بورن' 1968 میں شائع ہوئی۔ انہیں 1993 میں پولیٹزر ایوارڈ ملا تھا جب کہ 2014 میں انہیں نیشنل بک ایوارڈ دیا گیا تھا۔

گلوک کے اب تک 12 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور اپنے تخلیقی ادب پر وہ متعدد ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔

سونے کا بنا ہوا نوبیل پرائز میڈل
سونے کا بنا ہوا نوبیل پرائز میڈل

ادب کا یہ نوبیل انعام ان دیگر کیٹیگریز میں شامل ہے جن کے اعلانات اس ہفتے کیے جا رہے ہیں۔ ہر ایوارڈ میں سند کے ساتھ 11 لاکھ ڈالر کا نقد انعام بھی شامل ہے۔

نوبیل ایواڈ کے سلسلے کا اگلا اعلان جمعے کو کیا جا رہا ہے جس کا تعلق امن کے شعبے سے ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے کیمیا کے شعبے میں دو سائنس دانوں کو انسانی جین میں اصلاح کا طریقۂ کار دریافت کرنے پر ایواڈ دیا گیا تھا۔

بدھ کو طبعیات کے شعبے میں تین سائنس دانوں کو بلیک ہول سے متعلق ان کی دریافتوں پر نوبیل انعام کا حق دار قرار دیا گیا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی وائرس پر تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں کو طب کے شعبے میں کارکردگی پر نوبیل انعام دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG