رسائی کے لنکس

معاشیات کا ’نوبیل انعام‘ امریکی ماہر اقتصادیات کے نام


’سویڈن کی اکیڈمی‘ نے کہا ہے کہ ’’عام معقولیت، سماجی ترجیحات اور ضبط نفس کی خاصیت کی عدم موجودگی کے مضمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، تھیلر نے ثابت کیا ہے کہ ذاتی انسانی خصلتیں فیصلوں اور ساتھ ہی ساتھ منڈی کے اتار چڑہاؤ پر کس طرح باضابطہ طور پر اثرانداز ہوتی ہیں‘‘

امریکی رچرڈ ایچ تھیلر نے معاشیاتی سائنس کا 2017ء کا نوبیل پرائز جیت لیا ہے، جس انعام کو باضابطہ طور پر الفریڈ نوبیل کی یاد میں ’سوریگز رزبینک پرائز فور اکانامک سائنسز‘ کہا جاتا ہے۔

انعام دینے والی کمیٹی نے کہا ہے کہ تھیلر کو ’’معاشی فکر سے متعلق اُن کے کارناموں‘‘ پر دیا گیا ہے۔

’سویڈن کی اکیڈمی‘ نے کہا ہے کہ ’’عام معقولیت، سماجی ترجیحات اور ضبط نفس کی خاصیت کی عدم موجودگی کے مضمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، تھیلر نے ثابت کیا ہے کہ ذاتی انسانی خصلتیں فیصلوں اور ساتھ ہی ساتھ منڈی کے اتار چڑہاؤ پر کس طرح باضابطہ طور پر اثرانداز ہوتی ہیں‘‘۔

تھیلر نے ’ذہنی اکاؤنٹنگ‘ کا نظریہ پیش کیا ہے، جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ لوگ اپنے ذہن میں مختلف کھاتے تشکیل دے کر مالیاتی فیصلہ سازی کو کس قدر آسان بنا سکتے ہیں، جس سے ہر فرد کے حساب کتاب کی نوعیت کے فیصلے کا اثر محدود ہوتا ہے، جو مجموعی نتائج پر اثرانداز نہیں ہوتا۔

تھیلر نیوجرسی کے شہر ’ایسٹ اورینج‘ میں 1945ء میں پیدا ہوئے اور 1974ء میں نیو یارک میں ’یونیورسٹی آف روچسٹر‘ سے ڈاکٹوریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

’رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز‘ نے اس ایوارڈ کا پیر کے روز اعلان کیا؛ جس کے ساتھ 11 لاکھ ڈالر کی رقم دی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG