رسائی کے لنکس

شہری حقوق کی سربلندی، مارٹن لوتھر کنگ کو خراج عقیدت


امریکیوں نے پیر کے روز مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا دِن منایا، جو شخصیت امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کی سربلندی کی علامت ہے؛ جو اِس بات پر یقین رکھتے تھے کہ عدم تشدد کے اصولوں کی پاسداری کرکے ہی تحریک کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی عوام ہر سال ماہِ جنوری کے تیسرے پیر کے دِن قتل ہونے والے شہری حقوق کے راہنما کی یاد مناتے ہیں، جنھوں نے 1950اور 1960 کی دہائیوں میں جنوب میں برتے جانے والے امتیاز کے خلاف عدم تشدد پر مبنی احتجاج کیا، جس کا مقصد سیاہ فام آبادی کو مساوی حقوق اور رائے دہی کا حق دلانا تھا۔

ملک بھر کے متعدد لوگ یہ دِن کمیونٹی کی خدمت کے منصوبوں میں شریک ہو کر نسل پرستی کے خاتمے کے لیے کنگ کی جانب سے کیے جانے والے انتھک کام کی یاد مناتے ہیں۔ سنہ 1994 میں، امریکی کانگریس نے اس جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے، کنگ کی یاد میں اِسے قومی خدمت کے دِن کے طور پر منانے کے لیے باضابطہ تعطیل کا اعلان کیا۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز واشنگٹن ڈی سی میں مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، کنگ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ’’انصاف اور مساوات کے لیے اُن کی پُرامن جدوجہد‘‘ کو سراہا۔

تبدیلی کا نعرہ

سنہ 1950 کے عشرے میں کنگ اُس وقت مشہور ہوئے جب اُنھوں نے ایک نوجوان مبلغ کے طور پر ایک کامیاب تحریک کی قیادت کی، جس کے لیے الابامہ میں منٹگمری کے شہر میں عام بسوں میں امتیاز برتے جانے کے خلاف آواز بلند کی، جس کے بعد شہر میں سیاہ فام مسافروں کو الگ بٹھانے کے امتیاز کی روایت ختم ہوئی۔

اگست 1963ء تک مساوات کے لیے کی جانے والی یہ جدوجہد ملک بھر میں پھیل چکی تھی، اور ملک کے دارالحکومت واشنگٹن تک مارچ کرنے والے سیاہ و سفید فام لوگوں کی تعداد 250000 تک پہنچ چکی تھی۔ یہ احتجاج پُرامن تھا، جس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

کنگ کا مشہور خطاب’’آئی ہیو اے ڈریم‘‘ بنیادی طور پر ملک کے جنوب تک پھیلی ہوئی سیاہ فاموں کی تحریک تھی، جس نے ملک بھر میں شہری حقوق کی جدوجہد کا روپ اختیار کیا۔

اپنے ایک یادگار جملے میں کنگ نے اِس امید کا اظہار کیا کہ ’’ایک دِن آئے گا جب معصوم سیاہ فام لڑکے اور لڑکیاں چھوٹی عمر کے سفید فام لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ بھائی بہن کے طور پر ہاتھ ملا سکیں گے‘‘۔

عدم تشدد

کنگ کو معلوم تھا کہ شہری حقوق کی تحریک کی کامیابی کی کنجی عدم تشدد پر مبنی احتجاجی مظاہرے کی حکمتِ عملی میں مضمر ہے، جسے اُنھوں نے مسلح جہدوجہد کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ اس ضمن میں، کنگ بھارتی راہنما، مہاتما گاندھی کی تعلیمات سے متاثر تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG