رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا نے امریکی طلبا کی اعلی تعلیم میں دلچسپی کم کر دی


شہر نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک طالب علم آن لائین کلاس لیتے ہوئےاکتوبر 29, 2020.

حال ہی میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ کرونا بحران کے دوران امریکہ میں ہائی سکول کے طلبا نے اعلی تعلیم کے حصول میں کم دلچسپی ظاہر کی۔

ایک سال تک جہاں سکولوں کی بندش، سیاسی صورتحال، اور نسل پرستی پر مبنی واقعات سے امریکی معاشرے میں موجود تفریق نمایاں ہوئی ،وہاں اعلی تعلیم کے مہنگے اخراجات بھی ان وجوہات میں شامل ہیں، جو طلبا میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں کمی کا باعث بنے۔

وائس میڈیا کے تعاون سے منی ایپلس سے تعلق رکھنے والے اعلی تعلیم پر تحقیق کرنے والے ادارے ای سی ایم سی گروپ کے مرتب کردہ ایک جائزے میں کل 3202 امریکی طلبا نے حصہ لیا۔ ان طلبا میں سے محض ایک چوتھائی طلبا نے اعلی تعلیم کو بہتر ملازمت کے حصول کے لیے ضروری خیال کیا۔

ان طلبا کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ہائی سکول انہیں اعلی تعلیم کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کریں۔ اکثر طلبا کا کہنا تھا کہ وہ خود سے اپنی منزل کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اور فی الوقت انہیں نہیں معلوم کہ اس کے لیے انہیں کون سا راستہ چننا چاہئے۔

جائزے میں حصہ لینے والے طلبا کی نصف تعداد کا خیال تھا کہ ان کے لیے پروفیشنل زندگی میں کامیابی کے لیے تین سال یا اس سے کم عرصے کی اعلی تعلیم کافی ہو گی۔

جائزہ گروپ کے سی ای او جیریمی ویٹن نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ہائی سکول کے طلبا اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں میں پچھلے چند برسوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں مستقبل میں کیرئیر چننے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

ان کے بقول سوچنے کے انداز میں یہ تبدیلی اگرچہ غیر معمولی نہیں ہے لیکن اس کے لیے ان جیسے راہنماؤں اور اساتذہ کا یہ کام ہے کہ وہ طلبا کو مستقبل کے امکانات سے روشناس کریں۔ اس کے لیے جیریمی کے مطابق ضروری ہے کہ ان طلبا میں ہائی سکول کے بعد تعلیم کے مختلف مواقعوں سے متعلق شعور پھیلایا جا سکے۔

اس سروے میں نوجوانوں کی جانب سے جن تین مسائل کی سب سے زیادہ شکایت کی گئی ان میں امریکہ میں کالج اور یونی ورسٹی کی سطح پر مہنگی تعلیم، ہائی سکول کے بعد کیرئیر کا انتخاب کرنے سے متعلق طلبا میں پائی جانے والی بے یقینی اور تعلیم کے حصول کے بعد طلبا کا خود کو ملازمت کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ پانا تھا۔

اس تحقیق میں جن دیگر معاملات پر غور کیا گیا، ان سے یہ بھی سامنے آیا کہ نوجوان چاہتے ہیں کہ حکومت اور نجی کمپنیاں تعلیم اور اس کے لیے درکار سرمایہ فراہم کریں اور طلبا کے قرضے معاف کئے جائیں۔

سروے میں شامل آدھے سے زیادہ طلبا میں کرونا وائرس کی وجہ سے ذہنی دباؤ پایا گیا۔ ایسے طلبا اپنے آپ کو اگلے مرحلے کے لیے تیار نہیں سمجھتے۔ ان طلبا کا خیال ہے کہ عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات کے باعث ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ چار سال پر محیط کالج کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس لیے انہوں نے سکول کے بعد مزید تعلیم کے حصول میں کم دلچسپی دکھائی۔

واضح رہے کہ یہ سروے تین مرحلوں میں مکمل کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 1177 ہائی سکول کے طلبا سے 25 فروری سے 2 مارچ 2020 کے دوران سوالات کئے گئے۔ دوسرے مرحلے میں 1025 ہائی سکول کے طلبا سے مارچ 2020 کی 14 سے 20 تاریخ تک سروے کیا گیا اور تیسرے مرحلے میں 1001 ہائی سکول کے طلبا سے جنوری 2021 کی 4 سے 19 تاریخ تک سروے کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG