رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: کم سن بچی سے زیادتی کرنے والے شخص کو سزائے موت


فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخوا میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم عدالت چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے کم سن بچی سے جنسی زیادتی کرنے والے ایک شخص کو سزائے موت سنائی ہے۔

خیبرپختونخوا میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کی جانب سے بچوں کے خلاف تشدد میں ملوث کسی بھی ملزم کو یہ پہلی سزا ہے۔

پشاور کی ایڈیشنل اینڈ سیشن جج، جو بچوں کے حقوق کو یقینی بنانے والی ‘چائلڈ پروٹیکشن کورٹ’ کی بھی جج ہیں، نے پشاور کی ایک مسجد میں امام کے فرائض انجام دینے والے قاری سعید کو کم سن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے جرم میں ہفتے کو سزائے موت سنائی ہے۔

قاری سعید کے خلاف گزشتہ برس 14 مارچ کو کم سن معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں پشاور کے تھانہ انقلاب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمہ درج کیے جانے کے بعد ملزم قاری سعید کو گرفتار کرکے پشاور کی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

چند ماہ قبل ان کا مقدمہ پشاور کی چائلڈ پروٹیکشن کورٹ منتقل کیا گیا تھا ۔

ملزم کا گرفتاری کے بعد مقامی اسپتال میں طبی معائنہ بھی کیا گیا تھا۔ میڈیکل رپورٹ میں ملزم پر بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں ملزم کی میڈیکل رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ ملزم ایک تعلیم یافتہ شخص ہے۔ اس نے اسلامیات میں ماسٹرز کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق ملزم نے آٹھ سال سے کم عمر کی بچی کو مسجد بلایا اور اس کے ساتھ مسجد کے احاطے میں موجود کمرے میں جنسی زیادتی کی تھی۔

عدالت نے قاری سعید پر الزام ثابت ہونے کے بعد سزائے موت سنائی جب کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جب کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 544 کے تحت متاثرہ بچی کو بھی تین لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مجرم کی جانب سے جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید چھ مہینے قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمران ٹھکر نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

عمران ٹھکر کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ملوث ملزمان کی مقدمات کو فوری طور پر چائلڈ پروٹیکشن کورٹس میں منتقل کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG