رسائی کے لنکس

عسکریت پسندوں کی دھمکیاں، خاران پریس کلب بند


صحافیوں نے تحفظ کے اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ فائل فوٹو

ضلع خاران کے صحافیوں نے ایک مسلح عسکری تنظیم کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے بعد پریس کلب کو بند اور صحافتی سر گرمیاں معطل کردی ہیں۔

ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ضلع خاران میں کام کرنے والے صحافیوں کو ایک بلوچ مسلح عسکری تنظیم کی طرف سے اُن کی سر گرمیوں سے متعلق خبریں اخبارات اور ٹی وی چینلز پرنشر نہ کیے جانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں لہذا ایسے حالات میں صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں اور اس لئے پر یس کلب کو فوری طور پر غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

خاران کے ایک صحافی احمد جان ریکی نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ "ہمارے یہاں پریس کلب کے 17 ارکان ہیں یہ سارے صحافی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے کام کرتے ہیں پولیس کی طرف سے ایک اہلکار پر یس کلب میں تعینات کیا گیا ہے دیگر کوئی سیکورٹی نہیں ہے چونکہ یہ علاقہ ایسا ہے کہ یہاں صحافیوں کو اپنی سلامتی کی فکر عام حالا ت میں بھی لاحق رہتی ہے اس لئے دھمکیوں کے بعد پریس کلب کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔"

ڈپٹی کمشنر خاران قادر بخش پرکانی نے وی اواے کو بتایا کہ پریس کلب ایک محفوظ علاقے میں ہے لیکن صحافیوں کے تحفظ کے لئے ایک اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں صحافیوں کے لئے مزید اقدامات کرنے کے بارے میں فیصلے کئے جائیں گے۔

کو ئٹہ میں صحافیوں کی تنظیموں کی طرف سے خاران کے صحافیوں کو دھمکیاں دینے پر تشویش کا اظہار اور حکومت سے صحافیوں کی سلامتی کےلئے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے۔

بی یوجے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مسلح تنظیم کو کسی صحافی کے کردار یا رویے پر تحفظات یا شکایت ہے تو اُسے ادارے کے ذمہ دار عہدیداروں سے رابطہ کر کے مسئلہ حل کرا نا چاہیے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع خضدار کا پر یس کلب بھی مسلح عسکر ی تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں کے بعد کافی عر صے تک بند رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG