رسائی کے لنکس

لمحہ بہ لمحہ: امجد صابری کی نماز جنازہ اور تدفین

امجد صابری کی نماز جنازہ اور تدفین
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:19 0:00

بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے پولیس اہلکار آگے بڑھے۔ لیکن، لوگوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔ بہ حالتِ مجبوری، رینجرز کو بلانا پڑا، جس نے لوگوں کو انتہائی مشکل اور زبردستی ایک طرف کیا اور یوں ایک طویل جدوجہد اور تکرار کے بعد ایمبولیس سے جسد خاکی کو نکال کر قبر تک لایا گیا

ایک روز قبل نامعلوم افراد کے ہاتھوں لقمہٴ اجل بن جانے والے امجد صابری کا جنازہ جمعرات کو شہر کی حالیہ تاریخ کا ایک بڑا جلوس جنازہ ثابت ہوا۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں کئی ہزار لوگوں نے شرکت کی جس کے سبب لیاقت آباد، پاپوش نگر، ناظم آباد، گولیمار اور نصف درجن کے قریب اطرافی علاقوں میں لوگ ہی لوگ نظر آئے۔

امجد صابری کے گھر لوگوں کی آمد کا سلسلہ ان کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، جبکہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تمام وقت لوگ جوق در جوق ان کے گھر تعزیت کی غرض سے پہنچتے رہے۔

ان کے ایک پڑوسی حفیظ الدین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا وہ بھی رات 11 بجے تراویح کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ امجد صابری کے گھر گئے تھے اور سحری کے وقت واپس آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی رش تھمنے میں ہی نہیں آتا تھا۔

جمعرات کی صبح ہوتے ہی لوگوں کی آمد کا سلسلہ مزید زور پکڑ گیا۔ اگرچہ نماز جنازہ کے لئے دوپہر ایک بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن، لوگ صبح سویرے ہی پہنچنا شروع ہوگئے یہاں تک کہ تمام انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

صبح کے 11 بجے شاہراہ فیصل کے ایک کونے پر واقع چھیپا سرد خانے میں رکھا امجد صابری کا جسد خاکی ایمبولیس میں اہل خانہ کے دیدار کی غرض سے لیاقت آباد چار نمبر کے لئے روانہ ہوا ۔ سرد خانہ کے گرد اس وقت بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تاہم، جیسا ہی یہ جنازہ ان کے گھر کے قریب پہنچا رش اس قدر بڑھ گیا کہ ایمبولیسز کا چلنا تو دور کی بات ہے کھسکنا بھی مشکل ہوگیا۔

تا حد نگاہ اہل خانہ، قریبی عزیزو اقارب، احباب، فینز، پڑوسی، فنکار، کھلاڑی، سیاسی رہنما اور عام شہریوں کی شکل میں لوگ ہی لوگ امڈ ہوئے تھے۔ ایسے میں شدید گرمی اور حبس سے برا حال تھا لوگ پسینے میں تر بتر تھے۔ آگے آگے چلتی ایمبولینسز جو سیکنڈز کا سفر گھنٹوں میں طے کر رہی تھیں، لوگ تھے کہ ایمبولیسز کو گھیرے کھڑے تھے۔

ہر شخص کی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ امجد صابری کا آخری دیدار کرسکیں۔ لوگوں کی سہولت کے لئے ان کا چہرہ کھلا رکھا گیا تھا۔ لیکن، اس کے باوجود ہزار ہا لوگوں کی انہیں آخری بار دیکھنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔

سرد خانے سے جسد خاکی پہلے گھر لایا گیا پھر نماز جنازہ ان کے گھر کے قریب مرکزی شاہراہ پر ارم بیکری کے سامنے ادا کی گئی۔امامت درگاہ پاک پتن شریف کے گدی نشین مولانا احمد دیوان مسعود نے پڑھائی۔

بعد ازاں جنازے کو پاپوش نگر کے قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ راستہ کئی کلو میٹر پر محیط تھا اور لوگ روزے سے بھی تھے جبکہ گرمی اور حبس بھی ریکارڈ توڑ تھا۔ لیکن، لوگوں کا رش تھمنے میں نہیں آ رہا تھا۔ اس دوان سینکڑوں افراد ایک دوسرے کے پیروں تلے آکر زخمی بھی ہوئے اور کئی کے پیر لہو لہان بھی ہوئے لیکن لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔

جسدِ خاکی کے دیدار کا مشتاق، جم غفیر

مزار کے احاطے کا مرکزی دروازہ جہاں میڈیا کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی
1/19 مزار کے احاطے کا مرکزی دروازہ جہاں میڈیا کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی
مزید Show less
قبرستان کا بیرونی منظر، ایمبولیس کو لوگوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے
2/19 قبرستان کا بیرونی منظر، ایمبولیس کو لوگوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے
مزید Show less
ایمبولیس کا کھلتا دروازہ۔ اسے لوگوں کا جوش دیکھ کر فوری طور پر بند کر دیا گیا تھا
3/19 ایمبولیس کا کھلتا دروازہ۔ اسے لوگوں کا جوش دیکھ کر فوری طور پر بند کر دیا گیا تھا
مزید Show less
امجد صابری کے لئے پھولوں کا آخری نذرانہ
4/19 امجد صابری کے لئے پھولوں کا آخری نذرانہ
مزید Show less
لوگوں کا بے ہنگم رش
5/19 لوگوں کا بے ہنگم رش
مزید Show less
جلوس جنازہ میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی
6/19 جلوس جنازہ میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی
مزید Show less
حد نگاہ، لوگ ہی لوگ تھے
7/19 حد نگاہ، لوگ ہی لوگ تھے
مزید Show less
جنازے کے راستے میں آنے والے ایک پل پر لوگوں کا مجمع
8/19 جنازے کے راستے میں آنے والے ایک پل پر لوگوں کا مجمع
مزید Show less
رش کا ایک اور نظارہ
9/19 رش کا ایک اور نظارہ
مزید Show less
دور دور تک پھیلا لوگوں کا ’سیلاب‘
10/19 دور دور تک پھیلا لوگوں کا ’سیلاب‘
مزید Show less
جسد خاکی قبرستان کی طرف رواں دواں
11/19 جسد خاکی قبرستان کی طرف رواں دواں
مزید Show less
جلوس جنازہ کا ایک اور منظر
12/19 جلوس جنازہ کا ایک اور منظر
مزید Show less
جسد خاکی کا آخری دیدار کرتے لوگ
13/19 جسد خاکی کا آخری دیدار کرتے لوگ
مزید Show less
امجد صابری کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے
14/19 امجد صابری کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے
مزید Show less
ایمبولیس میں رکھی میت کو دیکھنے کی کوشش میں مصروف لوگ
15/19 ایمبولیس میں رکھی میت کو دیکھنے کی کوشش میں مصروف لوگ
مزید Show less
رش کے سبب ایمبولیس کا چلنا دشوار تھا
16/19 رش کے سبب ایمبولیس کا چلنا دشوار تھا
مزید Show less
ٹی وی اینکر شبیر ابو طالب بھی جنازے میں شریک تھے
17/19 ٹی وی اینکر شبیر ابو طالب بھی جنازے میں شریک تھے
مزید Show less
لوگ چھتوں اور چھجوں سے بھی میت کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر تھے
18/19 لوگ چھتوں اور چھجوں سے بھی میت کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر تھے
مزید Show less
لوگوں کو بہت سی مشکلات اور دشواریوں کے بعد آخری لمحوں میں امجد صابری کا آخری دیدار ہوا
19/19 لوگوں کو بہت سی مشکلات اور دشواریوں کے بعد آخری لمحوں میں امجد صابری کا آخری دیدار ہوا
مزید Show less
Previous slide
Next slide

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندوں سمیت شہر بھر کے میڈیا نمائندے بھی کوریج کے لئے لوگوں میں شامل تھے اور نہایت مشکلات حالات میں انہیں کام کرنا پڑا۔

ایک سے زائد گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد میت پاپوش نگر کے قدیم قبرستان میں لائی گئی۔ اس قبرستان میں امجد صابری کے پیر حیرت شاہ وارثی کا مزار واقع ہے اسی کے احاطے میں ان کے دادا اور والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول احمد صابری بھی مدفن ہیں۔ والد کے پہلو میں ہی امجد صابری کی قبر تیار کی گئی تھی۔

قبرستان اور خاص کر اس احاطے میں میڈیا اور عام لوگوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی صرف قریبی رفقا ہی اندر جاسکے۔

ایمبولیس سے امجد صابری کی میت اتارنے میں نصف گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا۔ انگنت افراد ایمبولیس کو گھیرے کھڑے تھے جیسے ہی دروازہ کھولا گیا لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی یہاں تک کہ بہت مشکل سے دروازہ دوبارہ بند کرنا پڑا۔

بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے پولیس اہلکار آگے بڑھے۔ لیکن، لوگوں نے کسی کی ایک نہ سنی بہ حالت مجبوری رینجرز کو بلانا پڑا جس نے لوگوں کو انتہائی مشکل اور زبردستی ایک طرف کیا اور یوں ایک طویل جدوجہد اور تکرار کے بعد ایمبولیس سے جسد خاکی کو نکال کر قبر تک لایا گیا۔

اگلے 20 منٹ میں امجد صابری کا جسد خاکی لحد میں اتارا گیا۔ لیکن، اس دوران بھی لوگ بے تاب رہے۔ بے شمار لوگ ایسے تھے جو انہیں یاد کرکے رار و قطار رہ رہے تھے۔

موت اور تدفین میں 24گھنٹے کا فرق
امجد صابری کی موت اور تدفین میں 24گھنٹے لگے جس کی وجہ یہ تھی کہ لندن سے امجد صابری کے بڑے بھائی ثروت صابری کو کراچی پہنچنا تھا، انہوں نے ہی جمعرات کی صبح سرد خانے سے امجد صابری کی میت وصول کی تھی۔

بڑے بھائی کے علاوہ امجد صابری کی ایک بہن اور چچا بھی آج صبح ہی بیرون ملک سے کراچی پہنچے تھے۔ وہ جرمنی میں رہتے ہیں لیکن جس وقت انہیں انتقال کی خبر ملی وہ لندن میں ثروت صابری کے گھر آئے ہوئے تھے اور انہی کے ساتھ ہی آج کراچی پہنچے۔

امجد صابری نے اپنے اہل خانے میں 2 بیوائیں اور 5 بچے چھوڑے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔

کیس کی تحقیقات
قوال امجد صابری قتل کیس کی تحقیقات کے دوران رینجرز حکام نے مقتول کے گھر کی سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو فوٹیج تحویل میں لے لی ہے، جبکہ پولیس نے ایک ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا۔

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG