رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان جبری گمشدگیوں کے کیسز حل کرے: ایمنسٹی انٹرنیشنل


فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت نے 2011ء میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس میں ہزاروں ایسے افراد کے کیسز سامنے آئے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں ہی اس کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے بتایا تھا کہ نصف سے زائد کیسز حل کیے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے سینکڑوں کیسز کو حل کرے۔

تنظیم کی طرف سے جاری ایک بیان میں جبری گمشدگی کو ایک خوفناک سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح لاپتا ہونے والے شخص کے اہل خانہ دوہری اذیت میں مبتلا رہتے ہیں جہاں وہ اپنے پیارے کے لوٹ آنے کی امید کو زندہ رکھتے ہیں تو وہیں کچھ بہت برا ہونے کا خوف بھی انھیں لاحق رہتا ہے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں دہشت کا ایک ہتھیار ہے جو صرف کسی انفرادی شخص یا اس کے خاندان کے خلاف ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشرہ اس کی زد میں آتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ ایک جرم ہے اور اگر یہ بڑے پیمانے پر منظم انداز میں ہو تو یہ انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ نیا نہیں اور اکثر واقعات میں لواحقین اس کا الزام ملک کے سیکیورٹی اداروں پر عائد کرتے ہیں، لیکن حکام اسے مسترد کرتے آئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کے مطابق پاکستان میں ایسے 700 سے زائد کیسز زیرالتوا ہیں جب کہ حکومت کی طرف سے اس ضمن میں قائم کیے گئے تحقیقاتی کمیشن کو بھی سینکڑوں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ان گمشدگیوں کا نشانہ بننے والوں میں بلاگرز، صحافی، طلبا، انسانی حقوق اور سماجی مساوات کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنان بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں حکومت نے 2011ء میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس میں ہزاروں ایسے افراد کے کیسز سامنے آئے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں ہی اس کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے بتایا تھا کہ نصف سے زائد کیسز حل کیے جا چکے ہیں۔

لیکن جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والی ایک سرگرم کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ کہتی ہیں کہ کمیشن میں کیس حل کیے جانے سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ معلوم ہو گیا ہے کہ لاپتا شخص مر گیا یا وہ کسی ادارے کی تحویل میں تو اس معاملے کو نمٹا دیا جاتا ہے جب کہ لواحقین کی تکلیف تو اپنی جگہ موجود رہتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کا مینڈیٹ صرف سراغ لگانا ہے۔

"پتا چلا کہ کسی بھی ادارے نے اقرار کر لیا تو ان کی فائل بند ہو جاتی ہے۔ تکلیف تو اس کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ انصاف کے تقاضے تو پورے نہیں ہوئے۔ اب حراستی مراکز میں ان سے ملاقات کا طریقہ اتنا مشکل ہے کہ کئی لوگوں کی سالوں تک ملاقات نہیں ہوئی اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا بیٹا یا بھائی دوبارہ لاپتا ہو گیا ہے۔ یہ کامیابی کا معیار نہیں، کامیابی کا معیار تو یہ تھا کہ جب کمیشن نے کام شروع کیا تو اس کے پاس 135 کیسز تھے جو اب پانچ ہزار کے قریب کیسز کو دیکھ رہا ہے۔ تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ 135 سے شروع کیا تھا تو اب ایک بھی کیس نہ ہوتا۔"

آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ ماضی کی نسبت اگر جبری گمشدگیوں کے واقعات بڑھے ہیں تو اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی تعداد بھی بڑھ ہی جس کی مثال ان کے بقول جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد شروع ہونے والی 'پشتون تحفظ موومنٹ' ہے۔

حال ہی میں قبائلی اور پشتون نوجوانوں اور دیگر افراد نے پشتونوں کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی جبری گمشدگیوں کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ لاپتا افراد کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور ان کے لواحقین کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز پر کام ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG